بنیادی مسائل کے جوابات — Page 542
میں میرے پر ظاہر کر رکھا ہے کہ میری ہی ذُریت سے ایک شخص پیدا ہو گا جس کو کئی باتوں میں مسیح سے مشابہت ہو گی وہ آسمان سے اترے گا اور زمین والوں کی راہ سیدھی کر دے گا اور وہ اسیر وں کو رستگاری بخشے گا اور اُن کو جو شبہات کی زنجیروں میں مقید ہیں رہائی دے گا۔“ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 179،180) اس بارہ میں آپ نے مزید فرمایا: میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہو گیا ہے بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں ہاں اس زمانہ کے لئے میں مثیل مسیح ہوں اور دوسرے کی انتظار بے سود ہے اور یہ بھی ظاہر رہے کہ یہ کچھ میرا ہی خیال نہیں کہ مثیل مسیح بہت ہو سکتے ہیں بلکہ احادیث نبویہ کا بھی یہی منشاء پایا جاتا ہے۔“ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 197) ایک اور جگہ اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: ” اس عاجز کی طرف سے بھی یہ دعویٰ نہیں ہے کہ مسیحیت کا میرے وجود پر ہی خاتمہ ہے اور آئندہ کوئی مسیح نہیں آئے گا بلکہ میں تو مانتا ہوں اور بار بار کہتا ہوں کہ ایک کیا دس ہزار سے بھی زیادہ مسیح آسکتا ہے۔“ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 251) فرمایا: عیسی ابن مریم نے ایک سو بیس برس عمر پائی اور پھر فوت ہو کر اپنے خدا کو جاملا اور دوسرے عالم میں پہنچ کر بیحی کا ہم نشین ہوا کیونکہ اس کے واقعہ اور بیٹی نبی کے واقعہ کو باہم مشابہت تھی۔اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ نیک انسان تھا اور نبی تھا مگر اسے خدا کہنا کفر ہے۔لاکھوں انسان دنیا میں ایسے گزر چکے ہیں اور آئندہ بھی ہوں گے۔خدا کسی کے 542