بنیادی مسائل کے جوابات — Page 541
مثیل مسیح کی آمد کے امکان کا بھی ارشاد فرمایا۔چنانچہ قرآن کریم کی مختلف آیات ، احادیث نبویہ الی یتیم اور دیگر مذاہب کی تاریخ سے استدلال کرتے ہوئے آپ نے انسانی نسل کی عمر سات ہزار سال ہونے اور اس کے پانچویں ہزار سال میں آنحضور الم کے مبعوث ہونے کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ”اب ہم ساتویں ہزار کے سر پر ہیں۔اس کے بعد کسی دوسرے میسیج کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ زمانے سات ہی ہیں جو نیکی اور بدی میں تقسیم کئے گئے ہیں۔“ آپ نے مزید فرمایا: (لیکچر لاہور ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 186) چونکہ یہ آخری ہزار ہے اس لئے ضرور تھا کہ امام آخر الزمان اس کے سر پر پیدا ہو اور اس کے بعد کوئی امام نہیں اور نہ کوئی مسیح۔مگر وہ جو اس کے لئے بطورِ ظل کے ہو۔کیونکہ اس ہزار میں اب دنیا کی عمر کا خاتمہ ہے جس پر تمام نبیوں نے شہادت دی ہے اور یہ امام جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود کہلاتا ہے وہ مجد د صدی بھی ہے اور مجدد الف آخر بھی۔“ (لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 208) حضور علیہ السلام مجدد الف آخر بھی ہیں۔جس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ حضور الم کی بشارتوں کے تحت آپ کے ذریعہ جاری ہونے والی خلافت علی منہاج النبوۃ میں آنے والے آپ کے خلفاء آپ کی پیروی اور اتباع کی برکت سے اپنے اپنے وقت کے مجدد بھی ہوں گے، اس لئے آپ کی پیروی اور اتباع سے باہر اب کسی مجدد کا آنا بھی محال ہے۔حضور علیہ السلام اپنے بعد آنے والے مثیل مسیح کے آنے کے امکان کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ہم یہ بھی ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ہمارے بعد کوئی اور بھی مسیح کا مشیل بن کر آوے کیونکہ نبیوں کے مثیل ہمیشہ دنیا میں ہوتے رہتے ہیں بلکہ خدائے تعالیٰ نے ایک قطعی اور یقینی پیشگوئی 541