بنیادی مسائل کے جوابات — Page 524
مومن دنیا میں تکلیف و مصائب کا شکار سوال: کینیڈا سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ کیا خدا تعالیٰ کا نافرمان اس دنیا میں تکلیف و مصائب میں رہتا ہے یا مومن تکالیف کا شکار رہتا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 25 اگست 2021ء میں بارہ میں درج ذیل ارشادات فرمائے۔حضور انور نے فرمایا: جواب: ہمارے آقا و مولا حضرت اقدس محمد مصطفی ایم نے نہایت پر حکمت کلام کے ذریعہ یہ مضمون ہمیں سمجھا دیا ہے آپ فرماتے ہیں: الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ (صحیح مسلم کتاب الزهد والرقائق باب نمبر (1) یعنی یہ دنیا مومن کی قید اور کافر کی جنت ہے۔اس جامع و مانع کلام میں حضور الل ﷺ نے ہمیں یہ بات سمجھائی ہے کہ ایک مومن اللہ تعالیٰ کی طرف سے حرام اور ناپسندیدہ قرار دی جانے والی شہوات دنیا اسی کی خاطر چھوڑ دیتا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی خاطر اور اس کی اطاعت میں مجاہدات کرتا اور مشکلات برداشت کرتا ہے ، اس لئے یہ دنیا بظاہر اس کے لئے ایک قید خانہ کی مانند ہو جاتی ہے۔لیکن جب وہ فوت ہو تا ہے تو اس کی اس عارضی قربانی کے نتیجہ میں اُخروی اور دائمی زندگی میں اس کو ان مصائب و مشکلات سے استراحت نصیب ہوتی اور وہ ان دائمی انعامات کا وارث قرار پاتا ہے جن کا خدا تعالیٰ نے اس سے وعدہ کیا ہوتا ہے۔جبکہ ایک کافر خدا تعالیٰ کے حکموں کو پس پشت ڈال کر اس عارضی دنیا کے ہر قسم کے حلال و حرام سامان زندگی سے فائدہ اٹھاتا اور اسی دنیا کو اپنے لئے جنت خیال کرتا ہے۔لہذا جب وہ مرتا ہے تو اس دنیا میں کئے گئے اپنے کرموں کی وجہ سے اسے اُخروی اور دائمی زندگی میں عذاب الہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پس ایک سچے مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر وقت اس بات کو اپنے پیش نظر رکھے کہ دنیوی زندگی دراصل ایک عارضی زندگی ہے اور اس کی تکالیف بھی عارضی ہیں۔اور جن لوگوں 524