بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 525 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 525

کو اس عارضی زندگی میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں ایسے شخص کی اُخروی زندگی جو دراصل دائمی زندگی ہے، کی تکالیف دور فرما دیتا ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مومن کو اس دنیا میں جو بھی تکالیف پہنچی ہیں یہاں تک کہ راستہ چلتے ہوئے جو کانٹا بھی چبھتا ہے اس کے بدلے میں بھی اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں اجر لکھ دیتا ہے یا اس کی خطائیں معاف فرما دیتا ہے۔(صحیح مسلم كتاب البر والصلة والاداب باب ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ أَوْ حُزْنٍ۔۔۔) اس دنیوی زندگی کے مصائب میں اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کو سب سے زیادہ ڈالتا ہے۔اسی لئے حضور لم نے فرمایا کہ لوگوں میں سے انبیاء پر سب سے زیادہ آزمائشیں آتی ہیں پھر رتبہ کے مطابق درجہ بدرجہ باقی لوگوں پر آزمائش آتی ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے کسی آدمی کو حضور ا سے زیادہ درد میں مبتلا نہیں دیکھا۔(صحیح بخاري كتاب المرضي باب شدّةِ الْمَرْضِ) چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ آپ ا کے کئی بچے فوت ہوئے، حالانکہ صرف ایک بچہ کی وفات کا دکھ ہی بہت بڑا دکھ ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: " قرآن کریم کے دوسرے مقام میں جو یہ آیت ہے۔وَ اِنْ مِّنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيَّاد ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِيْنَ اتَّقَوْا و نَذَرُ الظَّلِمِينَ فِيْهَا جِثِيًّا (سورۃ مریم:73،72) یہ بھی در حقیقت صفت محمودہ ظلومیت کی طرف ہی اشارہ کرتی ہے اور ترجمہ آیت یہ ہے کہ تم میں سے کوئی بھی ایسا نفس نہیں جو آگ میں وارد نہ ہو۔یہ وہ وعدہ ہے جو تیرے رب نے اپنے پر امر لازم اور واجب الادا ٹھہرا رکھا ہے۔پھر ہم اس آگ میں وارد ہونے کے بعد متقیوں کو نجات دیدیتے ہیں اور ظالموں کو یعنی ان کو جو مشرک اور سرکش ہیں جہنم میں زانو پر گرے ہوئے چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔اس آیت میں بیان فرمایا کہ متقی بھی اس نار کی مس سے خالی نہیں ہیں۔اس بیان سے مراد یہ ہے کہ متقی اسی دنیا میں جو دارالا بتلا ہے انواع اقسام کے پیرایہ میں بڑی مردانگی سے اس نار 525