بنیادی مسائل کے جوابات — Page 523
مومن سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ میں نے پڑھا ہے کہ ایک مومن کے لئے ہمیشہ بھلائیاں ہی آتی ہیں لیکن دوسری طرف یہ بھی ہے کہ یہ دنیا مومن کے لئے جہنم ہے۔اس میں کونسی بات ٹھیک ہے۔نیز یہ کہ کیا یہ درست ہے کہ اگر ایک نماز رہ جائے تو پچھلی چالیس سال کی نمازیں ضائع ہو جاتی ہیں ؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 20 فروری 2020ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: در حقیقت ایک سچے مومن کو دنیاوی چیزوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ، وہ انہیں اللہ کے حکم پر صرف عارضی سامان کے طور پر ضرورت کی حد تک استعمال کرتا ہے۔اور ہر وقت اس کی نظر اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی پر ہوتی ہے۔پس ایک مومن چونکہ دنیوی چیزوں کے پیچھے نہیں بھاگتا کہ وہ اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی یاد کو محو نہ کر دیں اس لئے دنیاوی لحاظ سے اس پر بظاہر تنگی آتی ہے لیکن وہ اس سے تکلیف محسوس نہیں کرتابلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر وہ اس دنیاوی تنگی کو بھی خوشی سے برداشت کر لیتا ہے۔جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام نے دعا کی کہ اے میرے رب! قید خانہ مجھے ان دنیاوی آسائشوں اور آلائشوں سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ خواتین مجھے بلاتی ہیں۔(سورۃ یوسف:34) اس کے مقابلہ پر ایک کافر چونکہ اس دنیا کو ہی اپنا سب کچھ خیال کرتا اور ہر وقت اسی کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے اور دنیاوی سامانوں سے خوب حظ اٹھاتا اور وہی اس کا اوڑھنا بچھونا ہوتے ہیں۔پس اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔(قسط نمبر 20، الفضل انٹر نیشنل 10 ستمبر 2021ء صفحہ 11) 523