بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 440 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 440

فیشن سوال : ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں بعض احادیث جن میں مردوں کے لئے لوہے کی انگوٹھی پہننے کی ممانعت آئی تھی پیش کر کے اس مسئلہ کے بارہ میں حضور انور سے رہنمائی چاہی، اور اس ضمن میں نوجوان لڑکوں کے فیشن کے طور پر ہاتھوں میں کڑے وغیرہ پہنے کا بھی ذکر کیا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 14 دسمبر 2016ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: میں نے اس بارہ میں تحقیق کروائی ہے۔آپ کی ارسال کردہ احادیث سنن ابی داؤد میں بیان ہوئی ہیں۔جبکہ صحیح بخاری میں بعض ایسی احادیث ملتی ہیں جن میں ذکر ہے کہ حضور الایم نے ایک صحابی سے فرمایا کہ وہ لوہے کی انگوٹھی حق مہر کے طور پر دے کر عورت سے نکاح کر لے۔اسی طرح سنن ابی داؤد میں یہ احادیث بھی موجود ہیں کہ حضور ام کی اپنی انگو ٹھی لو ہے کی تھی جس پر چاندی لپٹی ہوئی تھی۔مذکورہ بالا احادیث کی تشریح میں علمائے احادیث نے یہ بھی لکھا ہے کہ لوہے کی انگوٹھی کی کراہت والی حدیث ضعیف ہے ، نیز یہ کہ اگر لوہے کی انگوٹھی پہننا حرام ہو تا تو جس طرح حضور ﷺ نے مرد کے لئے سونا پہننا منع فرمایا ہے، اسی طرح لوہے کے پہنے کی بھی واضح طور پر ممانعت بیان فرماتے۔البتہ نوجوان لڑکوں کا ہاتھوں میں کڑے وغیرہ پہنا تو ویسے ہی ناپسندیدہ فعل ہے اس لئے آپ نے جو اس بارہ میں لڑکوں کو توجہ دلائی ہے بہت اچھا کیا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی بہترین جزا عطا فرمائے۔آمین (قسط نمبر 4، الفضل انٹر نیشنل 18 دسمبر 2020ء صفحہ 12) 440