بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 441 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 441

قبل از پیدائش وفات سوال : ایک خاتون نے اپنی بچی کی قبل از پیدائش وفات پر بعض سوالات حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں بغرض استفسار تحریر کئے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 20 فروری 2020ء میں ان سوالات کے درج ذیل جوابات ارشاد فرمائے۔حضور نے فرمایا: جواب: جو بچی پیدائش سے پہلے فوت ہو گئی ہے اس کی تصویر گھر میں لگا کر اپنے آپ کو مزید تکلیف دینے والی بات ہے۔اور ویسے بھی چونکہ وہ بچی پیدا ہونے سے پہلے فوت ہو گئی تھی اس لئے ہو سکتا ہے کہ اس کی تصویر اتنی صاف نہ ہو اور دوسرے بچوں کو خوفزدہ کرنے کا باعث ہو۔اس لئے اس بچی کی تصویر گھر میں لگانے اور اپنے پاس رکھنے کی ضرورت نہیں۔پیدائش سے پہلے فوت ہونے والے بچوں کو عموما نہ غسل دیا جاتا ہے اور نہ ان کا جنازہ ہوتا ہے لیکن اگر کوئی والدین اپنی دلی تسکین کے لئے ایسا کر لیں تو اس میں حرج بھی کوئی نہیں۔جہاں تک روزانہ قبرستان جانے کی بات ہے تو اگر آپ بچی کی قبر پر جاکر صبر کر سکتی ہیں اور آپ کے روزانہ قبرستان جانے میں آپ اور باقی گھر والوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی تو کچھ دن روزانہ قبرستان جا کر دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔لیکن اگر وہاں جانے سے آپ کی طبیعت پر برا اثر پڑتا ہو اور صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹتا ہو تو پھر روزانہ قبرستان جانے کی بجائے گھر میں ہی رہ کر دعا کریں۔اور یاد رکھیں کہ یہ بچی دراصل آپ کے پاس اللہ تعالیٰ کی ایک امانت تھی جو اس نے آپ کو اتنے ہی وقت کے لئے عطا فرمائی تھی اور جب یہ وقت ختم ہوا تو اس نے اپنی امانت واپس لے لی۔لہذا اسے اللہ تعالیٰ کی رضا سمجھ کر آپ کو اس پر صبر کرنا چاہیئے۔۔(قسط نمبر 22، الفضل انٹر نیشنل 05 نومبر 2021ء صفحہ 11) 441