بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 385 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 385

حیض نہیں آتا ان کے بارہ میں فرمایا: وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ (سورة الطلاق: 5) کہ تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اگر تمہیں شک ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور اسی طرح ان کی بھی جن کو حیض نہیں آرہا۔اور جو عور تیں حاملہ ہیں ان کی عدت کے متعلق فرمایا: وَأُوْلَاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ (سورة الطلاق: 5) یعنی جن عورتوں کو حمل ہو ان کی عدت وضع حمل تک ہے۔خُلع کی عدت کی نص احادیث نبوی م پر مبنی ہے۔جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم الم کے زمانہ میں حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے اپنے شوہر سے خُلع وہر سے خلع لیا تو نبی کریم ا نے انہیں ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا۔(سنن اور ترمذي كتاب الطلاق باماجاء في الخُلع) پس قرآن کریم اور احادیث نبویہ الم کی مذکورہ بالا نصوص سے بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ طلاق اور خلع کی الگ الگ عدت ہے اور اس کی حکمتیں اور وجوہات بھی ہیں جو اوپر بیان کر دی گئی ہیں۔جہاں تک بیوہ کی عدت کا تعلق ہے تو اس بارہ میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ : وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (البقرة: 235) یعنی اور تم میں سے جن (لوگوں) کی روح قبض کر لی جاتی ہے اور وہ (اپنے پیچھے) بیویاں چھوڑ جاتے ہیں (چاہیے کہ) وہ (بیویاں) اپنے آپ کو چار مہینے (اور ) دس (دن) تک روک رکھیں پھر جب وہ اپنا مقرر وقت پورا کر لیں وہ اپنے متعلق مناسب طور پر جو کچھ (بھی) کریں اس کا تم پر 385