بنیادی مسائل کے جوابات — Page 386
کوئی گناہ نہیں اور جو تم کرتے ہو اللہ اس سے واقف ہے۔بیوہ کے حاملہ ہونے کی صورت میں اس کی عدت کے بارہ میں صحابہ کے زمانہ سے ہی اختلاف چلا آ رہا ہے۔چنانچہ بعض صحابہ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ (سورة الطلاق: 5) کی روشنی میں یہ رائے رکھتے تھے کہ بیوہ کے حاملہ ہونے کے صورت میں اس کی عدت بھی وضع حمل ہی ہے خواہ وضع حمل خاوند کی وفات سے اگلے لمحہ میں ہو جائے جس کے لئے وہ حضرت سبیعہ اسلمی والے واقعہ سے دلیل لیتے ہیں۔(جس میں آتا ہے کہ حضرت سبیعہ اسلمی حضرت سعد بن خولہ کے نکاح میں تھیں جو حجتہ الوداع کے موقعہ پر فوت ہو گئے جبکہ سبیعہ حاملہ تھیں۔تھوڑے دنوں بعد ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔جب وہ اپنے نفاس کے بعد اچھی ہو گئیں تو انہوں نے شادی کا پیغام بھیجنے والوں کے لئے زیب و زینت کی۔قبیلہ عبدالدار کے ایک شخص ابو سنابل بن بتلک نے ان سے کہا کہ کیا تم نکاح کا پیغام بھیجنے والوں کے لئے زیب و زینت کر کے بیٹھ گئی ہو اور نکاح کی امید کر رہی ہو ؟ بخدا تم ہر گز نکاح نہیں کر سکتی جب تک کہ تم پر چار ماہ اور دس دن نہ گزر جائیں۔حضرت سبیعہ کہتی ہیں کہ اس پر میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اس بارہ میں پوچھا تو آپ نے مجھے فتویٰ دیا کہ جب بچہ پیدا ہو گیا تو میں آزاد ہوں اور اگر میں مناسب سمجھوں تو نکاح کر لوں۔جبکہ بعض دوسرے صحابہ جن میں حضرت عمر، حضرت علی اور حضرت ابن عباس رضوان اللہ علیہم شامل ہیں کی رائے میں بیوہ کے حاملہ ہونے کی صورت میں وضع حمل اور چار ماہ دس دن میں سے جو لمبی مدت ہو گی وہ بیوہ کی عدت ہے۔حاملہ بیوہ کی عدت وضع حمل ہونے کے قائلین کے پاس حضرت سبیعہ اسلمی کے اس واقعہ کے علاوہ اور کوئی دلیل نہیں ہے، قطع نظر اس کے کہ کتب احادیث میں اس واقعہ کے راویوں، حضرت سبیعہ اسلمی کے خاوند کے نام ، خاوند کے وقت وفات اور طریق وفات (طبعی موت اور قتل کے بارہ میں نیز حضرت سبیعہ اسلمی کے ہاں بچہ کی ولادت کے عرصہ کے بارہ میں بے شمار اختلافات پائے جاتے ہیں۔جن سے اس واقعہ کا ثقہ ہونا محل نظر ٹھہرتا ہے۔علاوہ ازیں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حضور ای ایم اور خلافت راشدہ کے زمانہ میں ہونے والی اسلامی جنگوں میں ہر عمر کے سینکڑوں صحابہ نے جام شہادت نوش فرمایا اور یقیناً ان میں سے کئی 386