بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 384 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 384

لیا عدت سوال: خُلع حاصل کرنے والی عورت کی عدت کے بارہ میں مجلس افتاء کی سفارشات حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں پیش ہونے پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس مسئلہ کے فقہی پہلو کی بابت اپنے مکتوب مؤرخہ 21 نومبر 2017ء میں درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: جہاں تک اس معاملہ کا فقہی پہلو ہے تو میرے نزدیک بھی طلاق اور خلع کی عدت مختلف ہے۔اس بارہ میں مجلس افتاء کی رپورٹ میں بیان دلائل کے علاوہ یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ جس طرح طلاق اور خلع کی تفصیلات میں فرق ہے، اسی طرح ان کے احکامات میں بھی فرق ہے۔طلاق کا حق اللہ تعالیٰ نے مرد کو دیا ہے اور جب مرد اپنا یہ حق استعمال کرتا ہے تو اس کے ساتھ ہی طلاق کی عدت کا عرصہ شروع ہو جاتا ہے، جبکہ خُلع عورت کا حق ہے جو وہ قضاء کی معرفت استعمال کرتی ہے اور جب تک قضاء کا فیصلہ نہ ہو جائے اس کی عدت کا عرصہ شروع نہیں ہوتا اور قضاء کی کارروائی جس میں عورت کی طرف سے درخواست دینا، حکمین کی کارروائی، فریقین کی سماعت اور فیصلہ وغیرہ وہ امور ہیں جن پر عموماً دو تین ماہ لگ جاتے ہیں۔پس خُلع کی عدت کے کم رکھنے میں ایک یہ بھی حکمت ہے کہ خلع کے بعد عورت کو صرف اسی قدر پابند کیا گیا ہے جس سے اس کا حمل سے خالی ہونا ثابت ہو جائے۔بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجلس افتاء کی رپورٹ سے متعلقہ مذکورہ بالا جواب کے علاوہ طلاق اور خلع کی عدت کے فرق پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے نیز بیوہ کی عدت کے بارہ میں فرمایا: طلاق کی عدت کے بارہ میں تفصیلی احکامات تو قرآن کریم میں مذکور ہیں کہ عام حالات میں عدت تین حیض ہو گی۔جیسا کہ فرمایا: وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ (البقره:229) یعنی مطلقہ عورتوں کو تین حیض کی مدت تک اپنے آپ کو روکے رکھنا ہو گا۔اور جن خواتین کو 384