بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 341 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 341

سوال: امریکہ سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ انسان کو کس حد تک اسلام، قرآن کریم اور جماعت کے بارہ میں سوال اٹھانے کی اجازت ہے۔مزید یہ کہ میں نے اپنے مربی صاحب سے اسلام سے قبل سود کی حرمت کے بارہ میں ، نیز حج کے موقعہ پر عورتوں اور مردوں کے اکٹھے نماز پڑھنے کے بارہ میں سوال کیا لیکن مربی صاحب نے ان سوالوں کا تسلی بخش جواب نہیں دیا۔اسی طرح اس دوست نے لجنہ کی حضور انور کے ساتھ ایک ملاقات میں ایک سوال پر حضور انور کے جواب کہ ”مذہب کے معاملہ میں کیوں اور کس لئے کا سوال نہیں ہے۔کا بھی ذکر کر کے اس بارہ میں حضور انور سے رہنمائی چاہی ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 26 نومبر 2021ء میں اس سوال کے بارہ میں درج ذیل تفصیلی ہدایات فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب: اسلام سے قبل سود کی حرمت نیز حج کے موقعہ پر مر دوں اور عورتوں کا اکٹھے نماز وغیرہ پڑھنے کے بارہ میں آپ کے سوالات کا جواب یہ ہے کہ یہ بات درست ہے کہ اسلام سے پہلے یہود میں بھی سود کی ممانعت تھی۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہم نے یہود کے سود لینے کی وجہ سے جس سے انہیں روکا گیا تھا، ان پر وہ پاکیزہ چیزیں بھی حرام کر دیں جو اس سے پہلے ان کے لئے حلال کی گئی تھیں۔(سورۃ النسآء: 162) عہد نامہ قدیم کی بہت سی کتابوں میں بھی سود کی ممانعت بیان ہوئی ہے۔لیکن استثناء میں غیر اسرائیلی اور پر دیسیوں سے سود لینے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔چنانچہ لکھا کہ : ”تم اپنے بھائی سے سود وصول نہ کرنا خواہ وہ روپوں پر ، اناج پر یا کسی ایسی شے پر ہو جس پر سود لیا جاتا ہو۔تم چاہو تو پر دیسیوں سے سود وصول کرنا لیکن کسی اسرائیکی بھائی سے نہیں۔66 (استثناء20/23-21) قرآن کریم کے بیان سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہود پر بھی سود کو حرام قرار دیا تھا لیکن انہوں نے بعد میں جس طرح خدا تعالیٰ کے دیگر احکامات میں اپنی مرضی سے تحریف کی اس حکم میں بھی تحریف کرتے ہوئے غیر یہود سے سود لینے کا سلسلہ شروع کر دیا۔جس کی وجہ 341