بنیادی مسائل کے جوابات — Page 340
لوگ بھی اشیاء کو بہت غلیظ رکھتے ہیں اور ان کی کڑاہیوں کو اکثر کتے چاٹ جاتے ہیں۔اس پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ : ہمارے نزدیک نصاری کا وہ طعام حلال ہے جس میں شبہ نہ ہو اور ازروئے قرآن مجید کے وہ حرام نہ ہو۔ورنہ اس کے یہی معنی ہوں گے کہ بعض اشیاء کو حرام جان کر گھر میں تو نہ کھایا مگر باہر نصاریٰ کے ہاتھ سے کھا لیا اور نصاریٰ پر ہی کیا منحصر ہے اگر ایک مسلمان بھی مشکوک الحال ہو تو اس کا کھانا بھی نہیں کھا سکتے مثلاً ایک مسلمان دیوانہ ہے اور اسے حرام و حلال کی خبر نہیں ہے تو ایسی صورت میں اس کے طعام یا طیار کر دہ چیزوں پر کیا اعتبار ہو سکتا ہے۔اسی لئے ہم گھر میں ولایتی بسکٹ استعمال نہیں کرنے دیتے بلکہ ہندوستان کی ہندو کمپنی کے منگوایا کرتے ہیں۔عیسائیوں کی نسبت ہندوؤں کی حالت اضطراری ہے کیونکہ یہ کثرت سے ہم لوگوں میں مل جل گئے ہیں اور ہر جگہ انہیں کی دُکانیں ہوتی ہیں۔اگر مسلمانوں کی دُکانیں موجود ہوں۔اور سب شئے وہاں ہی سے مل جاوے تو پھر البتہ ان سے خوردنی اشیاء نہ خریدنی چاہئیں۔“ البدر نمبر 27 ، جلد 3، مؤرخہ 16 جولائی 1904ء صفحہ 3) پس خلاصہ کلام یہ کہ انسان کو نہ تو بہت زیادہ وہموں میں پڑ کر جائز اشیاء کے استعمال سے بلاوجہ کنارہ کشی کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی غیر محتاط انداز اختیار کر کے ہر جائز و ناجائز چیز کو استعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے بلکہ ایک مناسب اور محتاط حد تک معاملات کی تحقیق کر کے اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔(قسط نمبر 44، الفضل انٹر نیشنل 2 دسمبر 2022ء صفحہ 10) 340