بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 342 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 342

سے وہ عذاب الہی کے مورد ہوئے۔اس کے مقابل پر اسلام میں جس طرح دیگر برائیوں کی بڑی تفصیل اور وضاحت کے ساتھ ممانعت فرمائی گئی ہے، سود کے بارہ میں بھی قرآن کریم نے کھول کھول کر اس کی حرمت بیان فرمائی اور سودی لین دین کی قباحتوں کو ہر پہلو سے بیان کرتے ہوئے اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیا اور مسلمانوں کو اس سے کلیتہ اجتناب کرنے کی ہدایت فرمائی۔پھر آنحضور الم نے بھی مختلف مواقعہ پر سود کی شناعت بیان فرمائی اور سود کھانے والے، کھلانے والے ، اس کی دستاویزات تیار کرنے والے اور اس کی گواہی دینے والے پر لعنت کی۔(صحیح مسلم كتاب المساقاة بَاب لَعْنِ آكِلِ الرِّبَا وَمُؤْ كِلِهِ) نیز اپنے معرکة الآراء خطبہ حجۃ الوداع کے موقعہ پر سود کی حرمت بیان کرتے ہوئے پرانے تمام سودی لین دین کے خاتمہ کا اعلان فرمایا۔(سنن ابي داؤد كتاب البيوع بَاب فِي وَضْعِ الرِّبَا) اسی طرح آپ ایم کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی سودی لین دین کے گناہ کی سنگینی بیان کرتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ نے سور کا کھانا بحالت اضطرار جائز رکھا ہے مگر سود کے لئے نہیں فرمایا کہ بحالت اضطرار جائز ہے۔(اخبار بدر قادیان نمبر 5، جلد 7 مؤرخہ 6 فروری 1908ء صفحہ 6) (قسط نمبر 48، الفضل انٹر نیشنل 3 فروری 2023ء صفحہ 12) 342