بنیادی مسائل کے جوابات — Page 333
مسائل کے بارہ میں اسی سے رہنمائی طلب کرنی چاہیئے۔باقی جہاں تک آپ کے سوالات کا تعلق ہے تو لجنہ اماءاللہ جرمنی کے ساتھ ملاقات میں جو میں نے سیکرٹری صاحبہ ناصرات کو ناصرات کی تربیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ”مذہب کے معاملہ میں کیوں اور کس لئے کا سوال نہیں ہے۔ایمان بالغیب بچپن میں ہی ان کے ذہنوں میں ڈالنا چاہیئے۔“ اس کا بھی یہی مطلب تھا کہ مذہب کے معاملہ میں بعض امور بڑے واضح ہوتے ہیں جو آسانی سے سمجھ آ جاتے ہیں لیکن بعض امور کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لا محدود علم کی بناء پر ایمان بالغیب کے پردہ میں رکھا ہے، جن کی حقیقت کو سمجھنا یا ان کا احاطہ کرنا انسان کے بہت ہی محدود علم کے بس کی بات نہیں۔لہذا مذ ہبی احکامات کے معاملہ میں جس طرح ہم آسانی سے سمجھ آجانے والے احکامات کی پابندی کرتے اور ان کو اپنی زندگیوں کا حصہ بناتے ہیں، اسی طرح ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ ان احکامات کی بھی اسی طرح اطاعت کریں جن کا ایمان بالغیب کے ساتھ تعلق ہے اور ان کے بارہ میں بلا وجہ اپنے ذہنوں میں شکوک و شبہات کو جگہ نہ دیں۔(قسط نمبر 48، الفضل انٹر نیشنل 3 فروری 2023ء صفحہ (12) 333