بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 332 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 332

کے لئے ایک گر بتایا ہے۔۔۔فرماتا ہے جن کو یہ خواہش ہے کہ وہ راسخ فی العلم ہو جاویں وہ محکموں کو معا مان لیتے اور متشابہ کا انکار نہیں کرتے بلکہ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا کہتے ہیں۔یعنی دونوں پروردگار کی طرف سے مانتے ہیں۔پس وہ متشابہ کے ایسے معنی نہیں کرتے جو محکم کے خلاف ہوں بلکہ ہر جگہ کُل من عِنْدِ رَبَّنَا کا اصول پیش نظر رکھتے ہیں۔کوئی آیت ہو اس کے خواہ کتنے معنے ہوں مگر ایسے معنے نہ کرنے چاہئیں جو محکم کے خلاف ہوں۔دوسرا طریق دعا کا ہے وہ یوں بتایا که رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا یعنی اے ہمارے رب ہمیں کبھی سے بچالے۔یعنی قرآن کے معنے اپنی خواہشوں کے مطابق نہ کریں۔“ حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ 447،448) حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: " قرآن عظیم میں متشبهت بھی ہیں جو تاویل کی محتاج ہیں۔ان متشبھت کی بہت سی باتیں بعض استعارات کے پردہ میں مجوب ہیں اور اپنے اپنے وقت پر آکر کھلتی ہیں اور جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا تھا یہ قرآن کریم کی عظمت ہے، بہت بڑی عظمت کہ وہ ایک ایسا کلام ہے جس نے قیامت تک کے لئے انسان کی بہتری کے سامان کر دیئے۔ہر صدی کا، ہر زمانہ کا ، ہر علاقہ کا، ہر ملک کا انسان قرآن کریم کا محتاج اور اس کی احتیاج سے وہ کبھی بھی آزاد نہیں ہو سکتا۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ یکم جولائی 1977ء ، خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ 114،115) پس مذکورہ بالا ارشادات سے ہمیں یہ رہنمائی ملتی ہے کہ دینی معاملات میں سے اگر کوئی بات سمجھ نہ آئے اور کسی دوسرے کے جواب سے بھی تسلی نہ ملے تو ایسی صورت میں ایک تو قرآن و حدیث کی محکم صداقتوں پر خود غور و تدبر کر کے ان مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے اور دوسرا اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا کرتے ہوئے اور اس کے آگے جھکتے ہوئے ان 332