بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 328 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 328

سوال کرنا سوال: امریکہ سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ انسان کو کس حد تک اسلام، قرآن کریم اور جماعت کے بارہ میں سوال اٹھانے کی اجازت ہے۔مزید یہ کہ میں نے اپنے مربی صاحب سے اسلام سے قبل سود کی حرمت کے بارہ میں ، نیز حج کے موقعہ پر عورتوں اور مردوں کے اکٹھے نماز پڑھنے کے بارہ میں سوال کیا لیکن مربی صاحب نے ان سوالوں کا تسلی بخش جواب نہیں دیا۔اسی طرح اس دوست نے لجنہ کی حضور انور کے ساتھ ایک ملاقات میں ایک سوال پر حضور انور کے جواب کہ ”مذہب کے معاملہ میں کیوں اور کس لئے کا سوال نہیں ہے۔“ کا بھی ذکر کر کے اس بارہ میں حضور انور سے رہنمائی چاہی ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 26 نومبر 2021ء میں اس سوال کے بارہ میں درج ذیل تفصیلی ہدایات فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب: اسلام نے زیادتی معلم کے لئے سوال کرنے کی اجازت دی ہے۔جیسا کہ فرمایا: فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ - یعنی اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے پوچھ لو۔(النحل: 44) لیکن کج بحثی کی خاطر لغو ، بیہودہ اور بے ادبی والے سوال کرنے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔چنانچہ فرمایا: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْتَلُوْا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ۔(المائدة: 102) یعنی اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! ایسی چیزوں کے متعلق سوال نہ کیا کرو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں تو وہ تمہیں تکلیف میں ڈال دیں۔اسی طرح فرمایا : آمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَسْئَلُوا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسَي مِنْ قَبْلُ۔(البقره: 109) 328