بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 329 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 329

یعنی کیا تم اپنے رسول سے اسی طرح سوال کرنا چاہتے ہو جس طرح (اس سے) پہلے موسیٰ سے سوال کئے گئے تھے۔چنانچہ صحابہ کرسول الله ما سوال کرنے کے بارہ میں بہت زیادہ محتاط تھے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم خود سوال نہ کرتے بلکہ انتظار کرتے تھے کہ کوئی اعرابی آئے اور حضور ام سے سوال پوچھے تا کہ ہم وہ باتیں سن کر اپنا علم بڑھا لیں۔پھر حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صحابہ کی اس علمی تشنگی کو اس طرح دور فرما دیتا کہ بعض اوقات حضرت جبرائیل کو انسان کی شکل میں بھیجتا اور وہ حضور سے سوال کرتے اور حضور ا ہم ان سوالوں کے جواب دیتے۔جس سے صحابہ اپنی علمی پیاس بجھا لیتے۔(صحيح بخاري كتاب تفسير القرآن بَابِ قَوْلِهِ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام سوال کرنے کے بارہ میں فرماتے ہیں: بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے دل میں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ اس کو نکالتے نہیں اور پوچھتے نہیں۔جس سے وہ اندر ہی اندر نشو و نما پاتا رہتا ہے اور پھر اپنے شکوک اور شبہات کے انڈے بچے دے دیتا ہے اور روح کو تباہ کر دیتا ہے۔ایسی کمزوری نفاق تک پہنچا دیتی ہے کہ جب کوئی امر سمجھ میں نہ آوے تو اسے پوچھا نہ جاوے اور خود ہی ایک رائے قائم کر لی جاوے۔میں اس کو داخلِ ادب نہیں کرتا کہ انسان اپنی روح کو ہلاک کر لے۔ہاں یہ سچ ہے کہ ذرا ذراسی بات پر سوال کرنا بھی مناسب نہیں، اس سے منع فرمایا گیا ہے۔“ (الحکم جلد 7، نمبر 13، مؤرخہ 10 اپریل 1903ء صفحہ 1) پس سوال کرنا تو منع نہیں اور اگر کوئی بات سمجھ نہ آئے تو ضرور پوچھنی چاہیے لیکن ہر بات میں بحث اور تکرار کے لئے سوال در سوال کی عادت بنالینا بھی ٹھیک نہیں۔پھر یہ بات بھی مد نظر رہنی چاہیئے کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام اور اس کی طرف سے نازل ہونے والی تعلیمات پر مبنی کتاب ہے۔اور یہ حقیقت ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کی حکمتوں اور اس کی گہرائیوں کو سمجھنا ہر انسان کے بس کی بات نہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح دنیا میں انسانی 329