بنیادی مسائل کے جوابات — Page 292
سوال: ایک خاتون نے محمد بن عبد الجبار النفری کی کتاب ”المواقف “ کی عبارت ”اُدْعُنِي فِي رُؤيَتِي وَلَا تَسْتَالْنِي، وَ سَلْنِي فِي غَيْبَتِي وَلَا تَدْعُنِي“ (یعنی میرے دیکھنے کی حالت ہوتے ہوئے مجھ سے دعا کرو مگر مجھ سے مانگو نہیں اور میرے غائب ہونے کی حالت میں مجھ سے مانگو اور مجھ سے دعا نہ کرو) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں پیش کر کے دریافت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے اور اس سے مانگنے میں کیا فرق ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 02 جولائی 2020ء میں اس سوال کے جواب میں درج ذیل ارشاد فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: تصوف کی مذکورہ بالا کتاب میں بیان یہ عبارت نہ تو قرآن کریم کا کوئی حکم ہے اور نہ ہی کسی حدیث پر مبنی اصول ہے۔یہ اس کتاب کے مصنف کی بیان کردہ ایک عبارت ہے۔قرآن کریم اور احادیث میں دعا کرنے اور اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے میں کوئی فرق نہیں کیا گیا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ۔اس میں اللہ تعالیٰ نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ تمہاری دعا کسی سوال پر مبنی نہیں ہونی چاہیئے۔پھر ایک حدیث قدسی میں حضور الم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر رات کے آخری تہائی حصہ میں نچلے آسمان پر اترتا ہے اور اعلان کرتا ہے مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيْب لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ ایک ہی موقع پر دعا کرنے اور سوال کرنے دونوں کا حکم فرما رہا ہے۔پھر حدیث میں ہی حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ سجدہ کی حالت میں انسان اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے، اس لئے اس موقع پر کثرت سے دعا کیا کرو۔اس میں بھی حضور ا ہم نے ایسی کوئی ممانعت نہیں فرمائی کہ تمہاری یہ دعا کسی سوال پر مبنی نہیں ہونی چاہیئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنے کلام میں ہمیں یہی نصیحت فرمائی ہے کہ ہمیں اپنی دینی و دنیوی تمام ضرورتیں اللہ تعالیٰ کے حضور ہی عرض کرنی چاہئیں۔چنانچہ اپنے ایک شعر میں آپ فرماتے ہیں: حاجتیں پوری کریں گے کیا تری عاجز بشر کر بیاں سب حاجتیں حاجت روا کے سامنے پھر مذکورہ بالا کتاب میں درج عبارت کے حوالہ سے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اللہ تعالیٰ کب 292