بنیادی مسائل کے جوابات — Page 291
مطابق اس سے سلوک کرے گا، جیسا کہ ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أَنَا عِنْدَ ظَنِ عَبْدِي بِي احادیث میں مختلف درود بیان ہوئے ہیں اور علماء امت میں بھی مختلف قسم کے درود رائج رہے ہیں، اور انہوں نے ان کے مختلف نام بھی رکھے ہوئے ہیں، جن میں سے بعض تفصیلی درود ہیں اور بعض مختصر ہیں۔زیادہ برکت کا باعث اور مبارک درود تو یقیناً وہی ہے جو آنحضور ا کی زبان مبارک سے نکلا اور آپ نے اپنے صحابہ کو سکھایا۔ان امور میں اصل چیز تو انسان کی نیت، محبت اور توجہ ہے کہ کس طور پر وہ اللہ تعالیٰ کے پیار کو جذب کرنا چاہتا ہے۔پس جس نیست، محبت اور توجہ سے وہ ان امور کو سر انجام دے گا اللہ تعالیٰ تک اس کی یہ نیت اور خلوص یقیناً پہنچ جاتا ہے۔احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضور الم نے بعض احکامات سائل کی نفسیات کو سامنے رکھ کر بیان فرمائے ہیں، اسی لئے ایک ہی قسم کے سوال پر آپ کی طرف سے مختلف جواب بھی بیان ہوئے ہیں۔حضور ام نے جس شخص میں جیسی کمی محسوس کی اس کی اسی کے مطابق رہنمائی فرمائی۔اس لئے بعض دعاؤں اور ذکر و اذکار کو گن کر کرنے کا بھی احادیث میں ذکر ملتا ہے۔جس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ کم از کم اس قدر تو ضرور ان دعاؤں اور ذکر و اذکار کو بجالاؤ۔پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس امر کو خوب کھول کھول کر بیان فرمایا ہے کہ دعاؤں اور ذکر و اذکار کو صرف طوطے کی طرح پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے پیار کو پانے کے لئے ان دعاؤں اور ذکر و اذکار میں بیان اسلامی تعلیم کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا، ان کے مطابق عمل کرنا اور دیگر نیکیاں بجالانا بھی لازمی ہے۔سورۃ الفاتحہ کو کثرت سے پڑھنے والا جب تک اس سورۃ میں بیان الہی صفات میں رنگین ہونے کی کوشش نہیں کرے گا اور قرآنی ہدایت صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ الله صِبْغَةً اور حدیث رسول الله تَخَلَّقَوْا بِأَخْلَاقِ اللہ کا جامہ زیب تن نہیں کرے گا، صرف زبانی ذکر و اذکار سے وہ کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔علم لدنی کے حصول کا بھی یہی ذریعہ ہے کیونکہ اسی طریق پر انسان اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کے پیار کو جذب کر سکتا ہے۔(قسط نمبر 13، الفضل انٹر نیشنل 109 اپریل 2021ء صفحہ 11) 291