بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 290 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 290

سوال: ایک دوست نے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں گستاخ رسول کی سزا، قرآن و حدیث کو حفظ کرنے ، درود شریف اور دیگر ذکر و اذکار، مختلف دعاؤں اور قرآنی سورتوں کو گن کر پڑھنے کی بابت بعض استفسارات بھجوا کر ان کے بارہ میں رہنمائی چاہی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 25 دسمبر 2019ء میں ان سوالوں کے درج ذیل جوابات ارشاد فرمائے۔حضور انور نے فرمایا: جواب: قرآن کریم اور احادیث کو حفظ کرنے کا بہترین طریق انہیں توجہ اور کثرت کے ساتھ پڑھنا ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ حضرت علیؓ اور حضرت ابوھریرہ کی اسی قسم کی شکایتوں پر حضور ا نے انہیں، ان امور کی طرف توجہ کرنے اور انہیں مسلسل اور کثرت سے پڑھنے کی تلقین فرمائی تھی۔درود شریف میں انہماک پیدا کرنے کا بھی یہی طریق ہے کہ محبت اور لگن کے ساتھ اس کا کثرت سے ورد کیا جائے۔جس طرح ہم اپنے دوسرے کاموں میں دلچسپی لیتے اور ان کی طرف توجہ کرتے ہیں، اگر ان نیک کاموں میں بھی یہی محبت اور دلچسپی پیدا کریں تو انشاء اللہ ضرور مقصود حاصل ہو گا۔درود شریف کا کثرت سے ورد یقیناً بہت بابرکت ہے اور انسان کی ہر دعا حضور ام پر درود کی بدولت ہی اللہ تعالیٰ کے حضور رسائی پاتی ہے جیسا کہ احادیث میں بیان ہوا ہے۔اگر صرف درود شریف ہی پڑھنا ہر انسان کے لئے کافی ہوتا اور یہ چیز اسے باقی دعاؤں سے مستغنی کر دیتی تو مختلف مواقع پر حضور ام خود درود شریف کے علاوہ دیگر دعائیں کیوں پڑھتے ؟ اور دیگر صحابہ و صحابیات کو مختلف قسم کی دعائیں کیوں سکھاتے ؟ چنانچہ احادیث میں بہت سی ایسی دعاؤں کا ذکر ملتا ہے، جو حضور ا م نے خود بھی کیں اور صحابہ اور صحابیات کو بھی سکھائیں۔اور یہی طریق آپ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حیات طیبہ میں ہمیں نظر آتا ہے۔آنحضور الم کے ارشاد إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ کی بناء پر اگر کوئی شخص اس نیت سے کہ د بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے حصول کے لئے ایک وسیلہ ہے، اس حُسنِ ظنی سے اپنی تمام مناجات آنحضور ام پر درود بھیجنا ہی بناتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی اس نیت اور حُسنِ ظنی کے درود 290