بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 252 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 252

حلال و حرام سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں استفسار کیا کہ اسلام میں مختلف جانوروں کا گوشت کس بناء پر حلال اور حرام قرار دیا جاتا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 11 اپریل 2016ء میں اس کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: کسی چیز کے حلال یا حرام ہونے کے بارہ میں دین اسلام کا اصول یہ ہے کہ ہر وہ امر جس سے شریعت منع نہ کرے، جائز ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اصل اشیاء میں حلّت ہے۔خرمت جب تک نص قطعی سے ثابت نہ ہو تب تک نہیں ہوتی“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 474) قرآن کریم نے مردار، بہتا ہوا خون، سور کا گوشت اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جانے والا جانور حرام قرار دیا ہے۔(سورۃ الانعام : 146) قرآن کریم کی بیان کردہ ان چار اشیاء کو حرام کہا جاتا ہے۔جبکہ بعض اشیاء کے کھانے سے آنحضرت ام نے منع فرمایا ہے ان کو ممنوع کہا جاتا ہے۔جیسے جو جانور شکاری ہے وہ ممنوع ہے۔اس میں درندے، شکاری پرندے وغیرہ سب داخل ہیں۔ان اشیاء کی ممانعت احادیث پر مبنی ہے۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے: نَهَي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابِ مِنَ السَّبَاعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ۔(صحيح مسلم كتاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ باب تَحْرِيمِ أَكُل كُلُّ ذِي نَابٍ۔۔۔) یعنی رسول اللہ ﷺ نے ہر کچلیوں والے درندے اور پنجوں والے پرندے کا کھانا ممنوع قرار دیا ہے۔اسی طرح حدیث میں آیا ہے: عَن ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهِي يَوْمَ خَيْبَرَ 252