بنیادی مسائل کے جوابات — Page 251
حضور الم کو زہر دینے والی عورت سوال: ایک مربی صاحب نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا ہے کہ حضور ا کو زہر دینے والی عورت کے بارہ میں حضور نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا حضور الله لم نے اسے معاف کر دیا تھا جبکہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضور ا نے اسے قتل کروا دیا تھا، اس بارہ میں مزید رہنمائی کی درخواست ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 20 فروری 2020ء میں اس بارہ میں مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: جواب: اس مسئلہ میں علماء حدیث میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔لیکن زیادہ مستند اور ثقہ کتب احادیث میں بیان احادیث کے مطابق یہی مسلک درست ہے کہ اس عورت کے حضور اللہ یتیم کے قتل کی کھلی کھلی سازش کرنے کے باوجو د حضور الم نے اسے معاف فرما دیا تھا۔اور باوجود اس کے کہ اس زہر کی کاٹ آخری عمر تک آپ کے گلے میں محسوس ہوتی رہی لیکن آپ اللی نیم نے اپنی خاطر اس عورت کو کوئی سزا نہیں دی۔جبکہ دنیا میں زمانہ قدیم میں بھی اور آج کے ترقی یافتہ زمانہ میں بھی کسی بادشاہ یا سر براہ حکومت کے قتل کی صرف منصوبہ بندی پر موت کی سزائیں دی جاتی ہیں۔بعض محدثین نے اس اختلاف کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ حضور لم نے پہلے اس عورت کو کوئی سزا نہیں دی تھی لیکن جب حضرت بشر بن براء کی اس زہر آلودہ گوشت کے کھانے سے وفات ہو گئی تو آپ ایم نے قصاص کے طور پر اس عورت کو قتل کر وا دیا۔اگر یہ توجیہہ درست بھی ہو تو حضور الم کی سیرت کا یہ پہلو جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا ہے کہ حضور العلم نے اپنی ذات کے لئے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا، اس واقعہ میں بھی بہت نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔(قسط نمبر 21، الفضل انٹر نیشنل 01 اکتوبر 2021ء صفحہ 11) 251