بنیادی مسائل کے جوابات — Page 253
عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ (صحيح بخاري كتاب المغازي باب غَزْوَةِ خَيْبَرَ) یعنی حضرت عبد اللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ رسول الله لم نے غزوہ خیبر کے موقعہ پر پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔حرام اور ممنوع کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ شریعت اسلامیہ میں جن اشیاء کے کھانے سے منع کیا گیا ہے وہ دو قسم کی ہیں۔اول حرام، دوم ممنوع۔لغتہ تو حرام کا لفظ دونوں قسموں پر حاوی ہے۔لیکن قرآن کریم نے اس آیت (یعنی بقرة :174) میں صرف چار چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔یعنی مردار، خون، سور کا گوشت اور وہ تمام چیزیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے نام سے نامزد کر دیا گیا ہو۔ان کے سوا بھی شریعت میں بعض اور چیزوں کے استعمال سے روکا گیا ہے۔لیکن وہ چیزیں اشیاء ممنوعہ کی فہرست میں تو آئیں گی، قرآنی اصطلاح کے مطابق حرام نہیں ہوں گی۔۔۔یہ احکام اس آیت یا دوسری آیات کے مضمون کے مخالف نہیں ہیں۔کیونکہ جس طرح اوامر کئی قسم کے ہیں بعض فرض ہیں ، بعض واجب ہیں اور بعض سنت ہیں۔اسی طرح نہی بھی کئی اقسام کی ہے۔ایک نہی محرمہ ہے اور ایک نہی مانعہ ہے اور ایک نہی تنزیہی ہے۔پس حرام چار اشیاء ہیں باقی ممنوع ہیں اور ان سے بھی زیادہ وہ ہیں جن کے متعلق نہی تنزیہی ہے یعنی بہتر ہے کہ انسان ان سے بچے۔حرام اور ممنوع میں وہی نسبت ہے جو فرض اور واجب میں ہے۔پس جن اشیاء کو قرآن کریم نے حرام کہا ہے ان کی حرمت زیادہ سخت ہے اور جن سے آنحضرت الیم نے منع کیا ہے وہ حرمت میں ان سے نسبتاً کم ہیں۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے احکام میں ان کی مثال فرض اور واجب اور سنت کی سی ہے۔حرام تو بمنزلہ فرض کے ہے اور منع بمنزلہ واجب کے۔جس طرح فرض اور واجب 253