بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 175 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 175

بہر حال جنات کا وجود تو ثابت ہے اور خدا تعالیٰ کے نظام میں حقیقت تو ضرور ہے مگر کھیل نہیں۔اس لئے میں اس بات کو نہیں مانتا خواہ اس کے خلاف بظاہر غلط فہمی پیدا کرنے والی اور دھوکا دینے والی باتیں موجود ہوں کہ کوئی جنات ایسے بھی ہیں جو انسانوں کو اپنے کھیل تماشے کا نشانہ بناتے ہیں۔لہذا میرے نزدیک جو چیز آسیب کہلاتی ہے وہ ہسٹیریا کی بیماری ہے۔اور جو چیز آسیب کے تعلق میں معمول کہلاتی ہے وہ خود نام نہاد آسیب زدہ شخص کا اپنے ہی وجود کا دوسرا پہلو ہے جو غیر شعوری طور ر آسیب زدہ شخص کی زبان سے بول رہا ہوتا ہے اور چونکہ آسیب زدہ خص لازما کمزور دل کا مالک ہوتا ہے۔اس لئے جب کوئی زیادہ مضبوط دل کا انسان یا زیادہ روحانی اس پر اپنی توجہ ڈالتا ہے تو وہ اپنی قلبی اور دماغی یا روحانی طاقت کے ذریعہ آسیب کے طلسم کو توڑ دیتا ہے۔مادی لوگ تو محض قلبی توجہ سے یہ تغیر پیدا کرتے ہیں لیکن روحانی لوگوں کے عمل میں روح کی توجہ اور دعا کا اثر بھی شامل ہوتا ہے اور توجہ کا علم بہر حال حق ہے۔“ (حیات قدسی مصنفہ حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی صفحہ 617،618) باقی طارق میگزین میں شائع ہونے والے انٹرویو میں بیان باتیں ایک سنے ہوئے واقعہ پر مبنی ہیں، جس میں سننے والے کو بھی غلطی لگ سکتی ہے، کیونکہ جہاں تک مجھے یاد ہے حضور ” نے یہ کہیں بیان نہیں فرمایا کہ آپ نے کسی جن کو بلیڈ لگاتے ہوئے دیکھا تھا بلکہ آپ نے فرمایا ہے کہ اگلی صبح دیکھا تو بلیڈ لگا کے رکھا ہوا تھا۔پھر حضور نے اس سلسلہ میں اس رات کا جو واقعہ بیان فرمایا ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی کشفی نظارہ ہو۔کیونکہ حضور کا اپنی تحریرات اور دیگر مجالس عرفان میں جنات کے بارہ میں بیان موقف اس قسم کے جنات کے وجود کے خلاف ہے۔پس جن کے لفظ سے بہت سی چیزیں مراد ہو سکتی ہیں لیکن یہ درست نہیں کہ دنیا میں کوئی ایسے جن بھی پائے جاتے ہیں جو لوگوں کے لئے کھلونا بنتے ہوں یا لوگوں کو قابو میں لا کر انہیں اپنا کھلونا بناتے ہوں۔یا وہ کچھ لوگوں کے دوست بن کر انہیں میوے اور مٹھائیاں لا کر دیتے ہوں اور 175