بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 174 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 174

فضل سے انسان کی کایا پلٹ کر رکھ دیتا ہے۔“ (مطبوعہ الفضل 13 جون 1950ء) اسی طرح حیات قدسی میں حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کے بارہ میں بیان شدہ بعض اس قسم کے واقعات کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں: ”جہاں تک کسی کے آسیب زدہ ہونے کا سوال ہے، میرا نظریہ یہ ہے کہ یہ ایک قسم کی ہسٹیریا کی بیماری ہے۔جس میں بیمار شخص اپنے غیر شعوری یعنی سب کا نشنس خیال کے تحت اپنے آپ کو بیمار یا کسی غیر مرئی روح سے متاثر خیال کرتا ہے اور اس تاثر میں اس شخص کی سابقہ زندگی کے حالات اور اس کی خواہشات اور اس کے خطرات غیر شعوری طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔یہ بھی ایک قسم کی بیماری ہے مگر یہ احساس بیماری ہے حقیقی بیماری نہیں۔اسلام ملائکہ اور جنات کے وجود کا تو قائل ہے اور قرآن کریم میں اس کا ذکر موجود ہے اور یہ بھی درست ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت نظام عالم کو چلاتے اور لوگوں کے دلوں میں نیکی کی تحریک کرتے اور بدیوں کے خلاف احساس پیدا کرتے ہیں۔لیکن یہ درست نہیں اور نہ اس کا کوئی شرعی ثبوت ملتا ہے کہ جنات لوگوں کو چمٹ کر اور ان کے دل و دماغ پر سوار ہو کر لوگوں سے مختلف قسم کی حرکات کرواتے ہیں۔یہ نظریہ اسلام کی تعلیم اور انسان کی آزادی ضمیر کے سراسر خلاف ہے۔اس کے علاوہ اسلام نے جنات کا مفہوم ایسا وسیع بیان کیا ہے کہ اس میں بعض خاص مخفی ارواح کے علاوہ نہ نظر آنے والے حشرات اور جراثیم بھی شامل ہیں۔چنانچہ حدیث میں جو یہ آتا ہے کہ اپنے کھانے پینے کے برتنوں کو ڈھانپ کر رکھو ورنہ ان میں جنات داخل ہو جائیں گے۔اس سے یہی مراد ہے کہ بیماریوں کے جراثیم سے اپنی خورد و نوش کی چیزوں کو محفوظ رکھو۔174