بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 173 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 173

زندگی میں بھی نہیں ملتا۔“ مجلس سوال جواب مؤرخہ 29 دسمبر 1984ء) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی جنوں کے متعلق نہایت عمدہ مضامین تحریر فرمائے ہیں۔چنانچہ ایک جگہ آپ لکھتے ہیں: ” جن کے لفظ سے بہت سی چیزیں مراد ہو سکتی ہیں لیکن بہر حال یہ بالکل درست نہیں کہ دنیا میں کوئی ایسے جن بھی پائے جاتے ہیں جو یا تو لو گوں کے لئے خود کھلونا بنتے ہیں یا لوگوں کو قابو میں لا کر انہیں اپنا کھلونا بناتے ہیں یا بعض انسانوں کے دوست بن کر انہیں اچھی اچھی چیزیں لا کر دیتے ہیں اور بعض کے دشمن بن کر تنگ کرتے ہیں یا بعض لوگوں کے سر پر سوار ہو کر جنون اور بیماری میں مبتلا کر دیتے ہیں اور بعض کے لئے صحت اور خوشحالی کا رستہ کھول دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔یہ سب کمزور دماغ لوگوں کے تو ہمات ہیں جن کی اسلام میں کوئی سند نہیں ملتی اور سچے مسلمانوں کو اس قسم کے توہمات سے پر ہیز کرنا چاہیئے۔ہاں لغوی معنے کے لحاظ سے (نہ کہ اصطلاحی طور پر ) فرشتے بھی مخفی مخلوق ہونے کی وجہ سے جن کہلا سکتے ہیں اور یہ بات اسلامی تعلیم سے ثابت ہے کہ فرشتے مومنوں کے علم میں اضافہ کرنے اور ان کی قوتِ علیہ کو ترقی دینے اور انہیں کافروں کے مقابلہ پر غالب کرنے میں بڑا ہاتھ رکھتے ہیں جیسا کہ بدر کے میدان میں ہوا۔جب کہ تین سو تیرہ (313) بے سر و سامان مسلمانوں نے ایک ہزار سازو سامان سے آراستہ جنگجو کفار کو خدائی حکم کے ماتحت دیکھتے دیکھتے خاک میں ملا دیا تھا۔(صحیح بخاري) پس اگر سوال کرنے والے دوست کو مخفی روحوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کا شوق ہے تو وہ کھلونا بننے والے یا کھلونا بنانے والے جنوں کا خیال چھوڑ دیں اور فرشتوں کی دوستی کی طرف توجہ دیں جن کا تعلق خدا کے 173