بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 76 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 76

بینکنگ سوال: مصر سے ایک ڈاکٹر صاحب نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ بینک کی مینجمنٹ میں بطور انجنیئر یا بینک کی ملکیتی کسی انجنیئر نگ کمپنی میں ملازمت کرنا جائز ہے؟ کیونکہ اس سے سود اور شراب کے کام پر تعاون ہوتا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 18 اکتوبر 2021ء میں اس مسئلہ کے بارہ میں درج ذیل ہدایات فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب: موجود زمانہ میں بینکنگ سسٹم تقریباً ہر دنیاوی کاروبار کا لازمی جزو ہے اور دنیا کے اکثر بینکوں کے نظام میں کسی نہ کسی طرح سود کا عنصر موجود ہوتا ہے، جو ان کاروباروں کا بھی حصہ بنتا ہے۔لہذا اس بات کو سمجھنے کے لئے اس زمانہ کے حکم و عدل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حسب ذیل ارشاد بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: اب اس ملک میں اکثر مسائل زیر وزبر ہو گئے ہیں۔گل تجارتوں میں ایک نہ ایک حصہ سود کا موجود ہے۔اس لئے اس وقت نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔66 (البدر نمبر 41 و42، جلد 3، مؤرخہ یکم و 8 نومبر 1904ء صفحہ 8) پس ایسے حالات میں اگر انسان بہت زیادہ وہم میں پڑا رہے تو اس کا زندگی گزارنا ہی دُوبھر ہو جائے گا۔کیونکہ عام زندگی میں جو لباس ہم پہنتے ہیں، ان کپڑوں کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں بھی کہیں نہ کہیں سودی پیسہ لگا ہو گا۔جو بریڈ ہم کھاتے ہیں، اس کے کاروبار میں بھی کہیں نہ کہیں سودی پیسہ کی آمیزش ہو گی۔اگر انسان ان تمام دنیاوی ضرورتوں کو چھوڑ چھاڑ کر اپنے گھر میں ہی بیٹھنا چاہے جو بظاہر ناممکن ہے پھر بھی وہ مکان جس اینٹ، ریت اور سیمنٹ سے بنا ہے، ان چیزوں کو بنانے والی کمپنیوں کے کاروبار میں بھی کہیں نہ کہیں سودی کاروبار یا سود کے پیسہ کی ملونی ہو گی۔پس بہت زیادہ میں میکھ نکال کر اور وہم میں پڑ کر اپنے لئے بلا وجہ مشکلات پیدا نہیں کرنی چاہئیں۔حدیث میں بھی آتا ہے ، حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں۔76