بنیادی مسائل کے جوابات — Page 77
أَنَّ قَوْمًا قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ قَوْمًا يَأْتُوْنَنَا بِاللَّحْمِ لَا نَدْرِي أَذكَرُوا اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ أَمْ لَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمُّوا اللَّهَ عَلَيْهِ وَكُلُوهُ (صحيح بخاري كتاب البيـوع بـاب مـن لَمْ يَرَ الْوَسَاوِسَ وَنَحْوَهَا مِنَ الشَّبُهَاتِ) یعنی کچھ لوگوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ایک جماعت ہمارے پاس گوشت لے کر آتی ہے، ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے (اسے ذبح کرتے وقت) اس پر اللہ کا نام لیا ہوتا ہے یا نہیں۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اس گوشت پر اللہ کا نام (بسم اللہ ) پڑھ لیا کر و اور اسے کھالیا کرو۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ کیا ہندوؤں کے ہاتھ کا کھانا درست ہے؟ فرمایا: " شریعت نے اس کو مباح رکھا ہے۔ایسی پابندیوں پر شریعت نے زور نہیں دیا بلکہ شریعت نے تو قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَلَّها پر زور دیا ہے۔آنحضرت الم آرمینیوں کے ہاتھ کی بنی ہوئی چیزیں کھا لیتے تھے اور بغیر اس کے گزارہ بھی تو نہیں ہوتا۔“ (الحکم نمبر 19، جلد 8، مؤرخہ 10 جون 1904 صفحہ 3) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں ایک دوست جو محکمہ آبکاری میں تحصیلدار تھے۔انہوں نے حضور سے بذریعہ خط دریافت کیا کہ کیا اس قسم کی نوکری نائب ہمارے واسطے جائز ہے ؟ حضور علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا: اس وقت ہندوستان میں ایسے تمام امور حالت اضطرار میں داخل ہیں۔تحصیلدار یا نائب تحصیلدار نہ شراب بناتا ہے نہ بیچتا ہے نہ پیتا ہے۔صرف اس کی انتظامی نگرانی ہے اور بلحاظ سرکاری ملازمت کے اس کا فرض ہے۔ملک کی سلطنت اور حالات موجودہ کے لحاظ سے اضطراراً یہ امر جائز ہے۔ہاں خدا تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہیئے کہ وہ انسان کے واسطے اس سے بھی بہتر سامان پیدا کرے۔گورنمنٹ کے ماتحت ایسی 77