بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 64 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 64

اس کے ناجائز ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں۔جن میں سے ایک یہ ہے کہ انشورنس کے کاروبار کی بنیاد سود پر ہے۔اور کسی چیز کی بنیاد سود پر ہونا اور کسی چیز میں ملونی سود کی ہونا ان میں بہت بڑا فرق ہے۔گورنمنٹ کے قانون کے مطابق کوئی انشورنس کمپنی ملک میں جاری نہیں ہو سکتی جب تک ایک لاکھ کی سیکوریٹیز گورنمنٹ نہ خریدے۔پس اس جگہ آمیزش کا سوال نہیں بلکہ لزوم کا سوال ہے۔2۔دوسرے انشورنس کا اصول سود ہے۔کیونکہ شریعت اسلامیہ کے مطابق اسلامی اصول یہ ہے کہ جو کوئی رقم کسی کو دیتا ہے یا وہ ہدیہ ہے یا امانت ہے یا شراکت ہے یا قرض ہے۔ہدیہ یہ ہے نہیں۔امانت بھی نہیں، کیونکہ امانت میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔یہ شراکت بھی نہیں، کیونکہ کمپنی کے نفع و نقصان کی ذمہ داری اور اس کے چلانے کے اختیار میں پالیسی ہولڈر شریک نہیں۔ہم اسے قرض ہی قرار دے سکتے ہیں اور حقیقتا یہ ہوتا بھی قرض ہی ہے۔کیونکہ اس روپیہ کو انشورنس والے اپنے ارادہ اور تصرف سے کام پر لگاتے ہیں اور انشورنس کے کام میں گھاٹا ہونے کی صورت میں روپیہ دینے والے پر کوئی ذمہ واری نہیں ڈالتے۔پس یہ قرض ہے اور جس قرض کے بدلہ میں کسی قبل از وقت سمجھوتہ کے ماتحت کوئی نفع حاصل ہو اسے شریعت اسلامیہ کی رو سے سود کہا جاتا ہے۔پس انشورنس کا اصول ہی سود پر مبنی ہے۔3۔تیسرے انشورنس کا اصول ان تمام اصولوں کو جن پر اسلام سوسائٹی کی بنیا درکھنا چاہتا ہے باطل کرتا ہے۔انشورنس کو کلی طور پر رائج کر دینے کے بعد تعاون باہمی ، ہمدردی اور اخوت کا مادہ دنیا سے مفقود ہو جاتا ہے۔(اخبار الفضل قادیان مؤرخہ 18 ستمبر 1934 صفحہ 5) بعض ملکوں میں حکومتی قانون کے تحت انشورنس کروانا لازمی امر ہوتا ہے۔ایسی انشورنس کروانا جائز ہے۔حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ سے ایک دوست نے 25 جون 1942ء کو سوال کیا کہ یو پی (انڈیا) گورنمنٹ نے حکم دیا ہے کہ ہر شخص جس کے پاس کوئی موٹر ہے وہ اس کا بیمہ 64