بنیادی مسائل کے جوابات — Page 63
انشورنس سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار کیا کہ کاروباروں میں مختلف قسم کے مفادات کے حصول نیز حادثاتی نقصانات سے بچنے کے لئے انشورنس کروانے کے بارہ میں اسلامی حکم کیا ہے؟ اس پر حضور انور نے اپنے مکتوب مؤرخہ 11 اپریل 2016ء میں جو جواب عطا فرمایا، اسے ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جواب: انشورنس صرف وہ جائز ہے جس پر ملنے والی رقم نفع و نقصان میں شرکت کی شرط کے ساتھ ہو اور اس میں جوئے کی صورت نہ پائی جاتی ہو۔اگر صرف نفع کی شراکت کی شرط کے ساتھ ملے تو سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔اسی طرح اگر پالیسی ہولڈر کمپنی کے ساتھ ایسا معاہدہ کر لے کہ وہ صرف اپنی جمع شدہ رقم وصول کرے گا اور اس پر سود نہ لے گا تو ایسی انشورنس کروانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انشورنس اور بیمہ کے سوال پر فرمایا: وو سود اور قمار بازی کو الگ کر کے دوسرے اقراروں اور ذمہ داریوں کو شریعت نے صحیح قرار دیا ہے۔قمار بازی میں ذمہ داری نہیں ہوتی۔دنیا کے کاروبار میں ذمہ داری کی ضرورت ہے۔“ (اخبار بدر نمبر 10 جلد 2 مؤرخہ 27 مارچ 1903ء صفحہ 76) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک تقریر میں فرمایا: "اگر کوئی کمپنی یہ شرط کرے کہ بیمہ کرانے والا کمپنی کے فائدے اور نقصان میں شامل ہو گا تو پھر بیمہ کرانا جائز ہو سکتا ہے۔“ (الفضل 7 جنوری 1930ء) ایک خط کے جواب میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے لکھایا کہ: یہ بات درست نہیں کہ ہم انشورنس کو سود کی ملونی کی وجہ سے ناجائز قرار دیتے ہیں۔کم از کم میں تو اسے اس وجہ سے ناجائز قرار نہیں دیتا۔63