بنیادی مسائل کے جوابات — Page 65
کرائے کیا یہ جائز ہے ؟ حضور نے فرمایا: ”اس کے متعلق بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ حکم صرف یوپی گورنمنٹ کا ہی نہیں بلکہ پنجاب میں بھی گورنمنٹ کا یہی حکم ہے۔یہ بیمہ چونکہ قانون کے ماتحت کیا جاتا ہے اور حکومت کی طرف سے اسے جبری قرار دیا گیا ہے اس لئے اپنے کسی ذاتی فائدہ کے لئے نہیں بلکہ حکومت کی اطاعت 66 کی وجہ سے یہ بیمہ جائز ہے افضل 4 نومبر 1961ء فرمود 25 جون 1942ء) انشورنس کے متعلق مجلس افتاء نے درج ذیل سفارش حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کی خدمت اقدس میں پیش کی جسے حضور انور نے 23 جون 1980ء کو منظور فرمایا: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے فتاوی کے مطابق جب تک معاہدات سود اور قمار بازی سے پاک نہ ہوں بیمہ کمپنیوں سے کسی قسم کا بیمہ کروانا جائز نہیں ہے۔یہ فتاوی مستقل نوعیت کے اور غیر مبدل ہیں البتہ وقتا فوقتاً اس امر کی چھان بین ہو سکتی ہے کہ بیمہ کمپنیاں اپنے بدلتے ہوئے قوانین اور طریق کار کے نتیجہ میں قمار بازی اور سود کے عناصر سے کس حد تک مبرا ہو چکی ہیں۔مجلس افتاء نے اس پہلو سے بیمہ کمپنیوں کے موجودہ طریق کار پر نظر کی ہے اور اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اگر چہ رائج الوقت عالمی مالیاتی نظام کی وجہ سے کسی کمپنی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنے کاروبار میں کلیۂ سود سے دامن بچا سکے لیکن اب کمپنی اور پالیسی ہولڈر کے درمیان ایسا معاہدہ ہونا ممکن ہے جو سود اور قمار بازی کے عناصر سے پاک ہو۔اس لئے اس شرط کے ساتھ بیمہ کروانے میں حرج نہیں کہ بیمہ کروانے والا کمپنی سے اپنی جمع شدہ رقم پر کوئی سود وصول نہ کرے۔رجسٹر فیصلہ جات مجلس افتاء صفحه : 60 غیر مطبوعہ) (قسط نمبر 3، الفضل انٹر نیشنل 04 دسمبر 2020ء صفحہ 12) 65