بُخارِ دل

by Other Authors

Page 94 of 305

بُخارِ دل — Page 94

94 بن جائے گا کبھی نہ کبھی خود بھی بے نظیر در پر پڑا رہے گا جو اُس بے مثال کے آگے بڑھے کہ پیچھے ہٹے کیا کرے غریب جلوے جو دیکھتا ہو جمال و جلال کے کیا پھونکنے کو آئے تھے تم آشیانِ دل چلتے بنے جو آگ محبت کی ڈال کے رندی کی اپنے منہ سے اُٹھا دوں اگر نقاب ابدال آئیں کھولنے تسمے نِعال کے تیغ نگاہِ یار نے بس کھیل کھیل میں ٹکڑے اُڑا دیے دل آشفتہ حال کے اب دیکھیں آکے عشق کی قربانیاں ذرا دکھلا چکے حسین تماشے جمال کے جی چاہتا ہے آپ کے قدموں میں ڈال دوں ہاتھوں سے اپنے اپنا کلیجہ نکال کے کہہ دو ان اہلِ قال سے دفتر پیٹ لیں دن مدتوں میں آئے ہیں پھر اہلِ حال کے پیرے کہ دم ز عشق زند بس غنیمت است دل تو جواں ہے خواہ یہ دن ہوں زوال کے اے شاہ محسن تم پر نہیں کیا زکوۃ حسن یا لطف آ رہا ہے فقیروں کو ٹال کے بس اتنی التجا تھی کہ تم بخش دو مجھے دامانِ مغفرت کو معاصی پر ڈال کے مل جائے ایک قبر جوار مسیح میں اور حشر اپنا ساتھ ہو احمد کی آل کے آمین (الفضل 25 /اکتوبر 1932ء)