بُخارِ دل — Page 93
93 کامیابی ہو کہ ہو قوت قدسی کا ظہور رفع نقصان و ضرر رغبت نیکوکاری حسن و احسان و فتوحات و کمال تعلیم خدمت خلق ہو یا عشقِ جناب باری الغرض جو بھی ہوں معیار کمالات بشر میرے آقا کی مُسلَّم ہے وہاں سرداری تیری ایک ایک ادا صلِ علی صلِ علیٰ تیری ہر آن پہ سو جان سے جاؤں واری حسن يوسف دمِ عیسی ید بیضا داری وانچہ خوباں ہمہ دارند تو تنها داری (الفضل خاتم النبيين نمبر 1929ء) دن مدتوں میں آئے ہیں پھر اہلِ حال کے طالب ہیں مجھ سے بڑھ کے وہ میرے وصال کے شیدا میں اُن کے قال کا، وہ میرے حال کے کیا کہنے اُس نگار کے حسن و جمال کے ناز و ادا کے، آن کے شوخی کے، چال کے مہر و وفا کے رحم کے احسان ولطف کے شوکت کے عز وشان کئے جاہ وجلال کے برسوں سے زیر مشق اطبا ہے زخم دل ! وہ آئیں گے تو آئیں گے دن اند مال للہ کچھ تو بولئے یا رُخ کو کھولیے اک تو خموشی دوسرے یوں پر دہ ڈال کے بے درد و سوز و عشق اگر وصل ہو کوئی لے جاؤ ایسے وصل کو واپس سنبھال کے شوقِ دُعا و ذوقِ رضا جمع کر کہ یاں ملتا ہے کچھ سوال پہ کچھ بے سوال کے راه وصالِ یار نہیں پل صراط ہے ہر اک قدم یہاں پہ خدارا سنبھال کے