بُخارِ دل

by Other Authors

Page 95 of 305

بُخارِ دل — Page 95

95 محمد مصطفیٰ ہے مجتبے ہے 6 نومبر 1932ء کو قادیان میں جلسہ سیرۃ النبی کے موقع پر ایک مشاعرہ ہوا۔جس میں مصرع تھا محمد پر ہماری جاں فدا ہے وہاں ایک طالب علم نے نہایت خوش الحانی سے یہ نظم پڑھی۔سامعین پر اس کا اس قدر اثر ہوا کہ بے ساختہ سب کی زبانوں پر درود شریف جاری ہو گیا اور بعض آبدیدہ ہو کر جھومنے لگے۔محرم مصطفى ہے مجھے ہے محمد ہے دل رُبا ہے محمد جامع حسن شمائل محمد محسن ارض و سما ہے کمالات نبوت کا خزانہ اگر پوچھو تو ختم الانبیاء ہے شریعت اُس کی کامل اور مدل اور مدلل غذا ہے اور دُعا ہے اور شفا ہے مبارک ہے یہ آنحضرت کی امث ہ عالم اس کا مثلِ انبیاء ہے وہ سنگ گوشته قفر رسالت یہی تورات نے اس کو لکھا ہے گرا جس پر ہوا وہ چُورا چورا گرا جو اس یہ خود ٹکڑے ہوا ہے کہا ہے سچ مسیح ناصری نے نزول اس کا نزول کبریا ہے ہے نہیں دیکھا ہے ان آنکھوں نے اس کو مگر دیکھا مثیل مصطف میرے تو ظن سے ہی جب اُڑ گئے ہوش تو پھر اصلی خدا جانے کہ کیا ہے