بُخارِ دل

by Other Authors

Page 92 of 305

بُخارِ دل — Page 92

92 آنچه خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری شرق سے مغرب تلک آپ کی ہیبت طاری عزش سے فرش تلک آپ کا سکہ جاری سیر راه بدی، شافع روز محشر یاں ہے دنیا کو ہدایت، تو وہاں غمخواری ہاتھ کو جس کے کہیں حضرت حق اپنا ہاتھ جان کی جس کی قسم کھا ئیں حضور باری جس کے احسان کے بوجھوں سے دبے جاتے ہیں جن و حیوان و ملک ، آدمی ، نوری ، ناری جس کی پاکیزہ توجہ نے مٹا دی بالکل قوم کی قوم سے اک آن میں ہر بدکاری جس نے اخلاق کی تکمیل دکھا دی کر کے جملہ اڈیان تھے اتمام سے جس کے عاری جس کی اک جنبش لب نے وہ دکھایا اعجاز پشت ہا پشت کے رندوں کی چھٹی میخواری صحبتِ پاک کا ادنی سا کرشمہ یہ تھا بزم افلاک میں داخل ہیں سبھی درباری ہو گئی خلق خدا مدح سے اُس کی عاجز قاب قوسین کے درجہ سے بڑھی جب یاری ملک کا، قوم کا، رنگت کا قضیہ بیٹا آ گئی حلقہ تبلیغ میں دنیا ساری اس کے آنے سے ہوئیں شیخ شرائع پہلی آگے سورج کے چمکتی ہے کہاں چنگاری و عرفان حقائق کا وہ بحر ذخار ہر بن مو سے ہوا چشمہ حکمت جاری اُس کے صدقے میں وہ قرآن ملا جس سے مُدام رزم اور بزم میں اپنا رہا پلہ بھاری جس کے فیضان سے اُمت میں رہے گا دائم چشمه وحی و کرامات و نبوت جاری جذب و توحید و تو گلن ہو کہ ہو قلب سلیم عقل صافی ہو کہ اعجاز کی قدرت کار می وتوحید 1 یعنی اقتداری معجزات