بُخارِ دل

by Other Authors

Page 57 of 305

بُخارِ دل — Page 57

57 تجھ پر افسوس ہے اے نفس دنی و ظالم تو نے دو کا بھی کیا جائے تو مرشد سے کیا؟ ترا مکر، یہ تلبیس ، خدا خیر کرے نفس امارہ مرے تو نے یہ اچھا نہ کیا اب مناسب ہے کہ کر دے تو ابھی گوش گزار میرے آقا! مرے ظاہر پہ نہ جانا اصلا اپنی تاریکی باطن پہ ہوں میں آپ گواہ عالم الغیب ہے یا واقفِ اسرار مرا پاس پھنکیں نہ مرے دوست بھی گھن کے مارے گر حقیقت کا ذرا ان کو دکھا دوں چہرہ ربیت وخُلق وعمل اور یقین و ایماں منہ پہ لانے سے ان الفاظ کو آتی ہے حیا کاتب قول و عمل ہیں جو فرشتے ، وہ بھی کفر و شوخی کو مری دیکھ کے اُٹھے تھرا حسن ظنی کا لیا آپ نے لاریب ثواب لیکن اس دل پہ لگایا ہے یہ کیسا چر کا چین دن کو ہے مجھے اور نہ شب کو آرام تم نے سمجھا مجھے کیا اور میں نکلا کیسا ہے یہ آداب ارادت کے مخالف بالکل ایسی باتوں میں رہے آپ کا میرا پردہ سيدى انت حبیبی و طبیب قلبی سخت لاچار ہوں للہ مداوا میرا اے مرے مُرشد کامل ، اے مرے راہ نما آپ کو حق کی قسم، کیجئے حق سے یہ دُعا نیک ظنی کو میدن به حقیقت کر دے لاج رکھتا ہے پیاروں کے کہے کی مولا ماسوی اللہ سے کر دے مرا سینہ خالی حُبّ دنیا کو مرے نفس پہ کر دے ٹھنڈا معرفت دل کو ملے رُوح کو نورِ ایماں ذرے ذرے میں مرے عشق رچا دے اپنا کرم خاکی کو اگر چاہے تو انساں کر دے میرا مولیٰ مری بگڑی کا بنانے والا مستحق گرچہ نہ ہوں لطف و کرم کا، لیکن کچھ بھی ہوں، کوئی بھی ہوں، ہوں تو اُسی کا بندہ