بُخارِ دل — Page 56
56 چند چند از حکمت یونانیاں؟ حکمت ایمانیاں را هم بخواں (الفضل 31 / جولائی 1924ء) منظور سے گزارش احوال واقعی اپنا بیان حسن طبیعت نہیں مجھے جامِ جہاں نما ہے شہنشاہ کا ضمیر نام اور پتا بتانے کی حاجت نہیں مجھے میرے مرشد نے سر مجلس احباب اک دن میرے بارے میں کچھ اس طرح سے ارشاد کیا اس کی باتوں سے ٹپکتی ہے محبت ایسی ہم سمجھتے ہیں کہ ہے آدمی یہ بھی اچھا“ میں بھی سنتا تھا کہیں پاس کھڑا یہ تقریر کیا بتاؤں جو مرا حال ندامت سے ہوا دل کو دیکھا تو نہ تھی اس میں ذرا بھی گرمی ایک رتی بھی محبت جو ہو، حاشا کلا سارے خانے تھے بھرے کفر سے اور عصیاں سے کوئی تقویٰ نہ تھا اخلاص نہ تھا، نُور نہ تھا مجھ کو خود اپنے سے آنے لگی عار اور نفرت دیکھ کر ظاہر و باطن کو خراب اور گندا آہ! کرتا رہا میں کیسی ملمع سازی جنس کھوٹی تھی جسے کر کے دکھایا اچھا