بُخارِ دل — Page 58
58 حشر میرا شہ خُوباں کی رفاقت میں ہو اور دائم رہے اس ہاتھ میں دامن اُن کا ما بدین مقصد عالی نتوا نیم رسید ہاں مگر لطف شما پیش نهد گامے چند مطبوعہ الفضل 14 اگست 1924ء) نعمت اللہ نے دکھلا دیا قرباں ہو کر بر موقعہ شہادت مولوی نعمت اللہ خان جو احمدی ہونے کی وجہ سے 31/ اگست 1924ء کو کابل میں سنگسار کئے گئے۔زندہ عشق ہوئے داخل زنداں ہو کر قرب دلدار ملا یار پہ قرباں ہو کر سنگ ساری نے کیا حسن دوبالا تیرا خوب تر ہو گئی یہ زُلف پریشاں ہو کر رکشت اسلام کو سینچا ہے کہو سے اپنے تو نے مخمور کیم بادۂ عرفاں ہو کر دیکھنا! گفته محبوب چلا مشکل کو پابجولاں، بسر شوق خراماں ہو کر سنگ باری سے ترا نور بجھایا نہ گیا ذرہ ذرہ چمک اُٹھا خور تاباں لیے ہو کر حرف آنے نہ دیا صدق و وفا پر اپنے بور اغداء کا سہا خُرم و خنداں ہو کر مذہب عشق کی دنیا سے نرالی ہیں رسوم زندگی ملتی ہے اس راہ میں بے جاں ہو کر سر خرو دونو جہانوں میں ہوئے تم ، واللہ داخل میکدہ بزم شہیداں ہو کر لوگ کہتے تھے رہ قُرب الہی کیا ہے؟ نعمت اللہ نے بتلا دیا قرباں ہو کر 1 خور تاباں یعنی چمکتا ہوا سورج