بُخارِ دل

by Other Authors

Page 55 of 305

بُخارِ دل — Page 55

55 خلاصہ خطبہ عید الاضحی 1924ء میں جبکہ حضور خلیفہ المسح ولایت تشریف لئے گئے تھے تو قادیان میں عید الاضحیٰ کا خطبہ حضرت مولوی شیر علی صاحب نے پڑھا تھا۔یہ اشعار اُس خطبے کے ہیں جو میر صاحب نے بطور خطبہ کے خلاصہ کے تحریر فرمائے تھے۔ایکه داری عزم تائیدات دیں یاد رکھ اس بات کو تو بالیقیں کوئی قربانی بجز تقویٰ نہیں اور بلا قربانی کچھ ملتا نہیں بے محبت جملہ قربانی فضول منگنی کی صرف ہوتی ہے قبول انتخانِ عشق ہیں قُربانیاں پر وہی جن میں ہو تقویٰ کا نشاں متقی اللہ کا محبوب ہے اس کا تھوڑا بھی بہت مرغوب ہے ہر عمل میں اپنے اے جانِ پدر لَن يَّنالَ اللہ پر رکھیو نظر گوشت کا اور خون کا ہے کام کیا یاں تو بس تقویٰ سے حاصل ہو رضا تو وفا کو سیکھ ابراہیم جس نے بیٹا رکھ دیا خنجر تلے عشق کے کوچے کا ہے پہلا سوال ”لائیے ناموس و عزت جان و مال“ گر ذرا بھی ہو تأمل سے جواب مدعی کا ہو گیا خانہ خراب عشق و تقویٰ کا نہ تھا باقی نشاں لائے اُن کو احمد آخر زماں گر تجھے ہے چاشنی اس راہ کی داخل حزب خدا ہو جا چاہتا ہے قُرب گر، قربان ابھی ہو تا کہ تو حیوان سے انسان ہو