بُخارِ دل

by Other Authors

Page 47 of 305

بُخارِ دل — Page 47

47 مجھ کو دعوی ہے کریمی پہ تمہاری ورنہ ذرہ خاک کہاں اور تری ذات کہاں! دوستاں حال دل زار نگفتن تا کے سوختم سوختم - ایں سوز نهفتن تا کے حصہ سوم-مناجات و دعا اب تمنا ہے یہی دل میں بُلا لے کوئی آرزو ہے کہ گلے اپنے لگا لے کوئی اب نہ ہے یار نہ دلدار، نہ غمخوار کوئی اتنی حسرت ہے کہ پھر پاس بٹھالے کوئی ہے کوئی صاحب دل میری شفاعت جو کرے میں جگر سوختہ ہوں۔میری دعا لے کوئی در پہ آیا ہے یہ تو بہ کے لئے ایک فقیر دو گھڑی بیٹھ کے سُن لے میرے نالے کوئی ہوتی ہے کشتی ایماں کوئی دم میں غرقاب ورطہ بحر ضلالت سے بچا لے کوئی ہے نہ طاقت نہ سگت اور نہ ہمت باقی اب مناسب ہے یہی مجھ کو سنبھالے کوئی دفت فرقت میں بہت آبلہ پائی کر لی اب بھی شک ہو تو مرے دیکھ لے چھالے کوئی کھینچ کر مجھ کو لیے جاتا ہے نفس ظالم قید زنجیر معاصی سے چھڑا لے کوئی شرم سے گرچہ نظر اُٹھ نہیں سکتی میری پر تمنا ہے کہ آنکھوں میں بٹھالے کوئی رتبہ اپنا ہو ملائک سے کہیں بڑھ کے سوا دامن عفو کے نیچے جو چُھپا لے کوئی ہاتھ میں دل کو لئے پھرتا ہوں اپنے زخمی کاش کہ پھانس میرے دل کی نکالے کوئی صدقے ہو جاؤں اگر ہاتھ پکڑ کر میرے اپنے چرنوں میں مراسیس نوالے کوئی مہر سے اُس کی ، سیہ بختی ہو اپنی کافور زُلف کو گر رخ زیبا سے ہٹا لے کوئی میں بھی بیٹھا ہوں کسی در پر با امید قبول پھر غلام در جانانہ بنا لے کوئی