بُخارِ دل — Page 46
46 روز روشن میں نکالا جو گیا ہو۔اس کو پھر شب تار کی وہ خفیہ ملاقات کہاں اُن کے جاتے ہی نہ معلوم کہ مجھ میں سے گئے حُسنِ اخلاق کہاں ؟ خوبی عادات کہاں؟؟ رہ گیا قشر فقط مغز ہوا سب برباد اپنے اعمال میں اخلاص کی وہ بات کہاں جب کہ خالق سے ہی مفرور ہوا بندہ تو پھر خدمت خلق کہاں صدقہ و خیرات کہاں سب تصنع کا یہ رونا ہے غزل میں اب تو نالہ عشق کہاں اور یہ خرافات کہاں وہ خلش دل کی کہاں ؟ سوزِ نہانی وہ کدھر وہ نمک پاشی لب ہائے جراحات کہاں؟ ہے یہ بے فائدہ سب آہ وفغاں - واویلا سنتے ہیں عالم بالا میں میری بات کہاں اتنا للہ بتا دو کہ ملیں گے مجھ کو اب وہ عرفان کہاں؟ لذت طاعات کہاں طالب گشت سے کہہ دو کہ بنے طالب یار وصل دلدار کہاں- کشف و اشارات کہاں جس سے مخمور رہا کرتے تھے دن رات کبھی ڈھونڈوں اُس کے کو بتا پیر خرابات ! کہاں؟ دست بیعت تو دیا تھا کہ وہ کھینچیں اوپر چھٹ گیا کیف لپ بام مرا بات کہاں اب وہ اعمال کہاں اور وہ نیاث کہاں دست نصرت وہ کسی کا نہ آفات کہاں ناخلف وہ ہوں کہ اسلاف کو بد نام کیا ورنہ ذلت یہ کہاں زمرہ سادات کہاں ق بارگاه احدیث کو پکاروں کیونکر ایک درویش کہاں! قاضی حاجات کہاں! اُن کی خدمت میں یہ کہنا ہے جول جائیں کبھی وقت پھر ایسا ملے گا مجھے ہیہات کہاں اپنے ہاں سے جو نکالا ہے تو دو یہ تو بتا جاؤں اس در سے بھلا قبلہ حاجات کہاں