بُخارِ دل

by Other Authors

Page 48 of 305

بُخارِ دل — Page 48

48 جس طرح اپنی حضوری سے کیا تھا مہجور رحم فرما کے اسی طرح بُلا لے کوئی نبض کیوں دیکھ کے گھبرا گیا نادان طبیب دم نہیں نکلے گا جب تک کہ نہ آئے کوئی جتنا چاہے مجھے مٹی میں ملا دے کوئی پھر نہ کوچے سے مگر اپنے نکالے کوئی جو مخاطب ہیں مرے خود ہیں وہ علام غروب اب مُناسب نہیں کچھ منہ سے نکالے کوئی ہے دُعا اپنی یہ درگاہ خداوندی سے موت تب آئے کہ جب چہرہ دکھالے کوئی این دعا از من و از جملہ جہاں آ میں باد آید و لطفش ہماں آئیں باد یار باز آید حصہ چہارم - ملاقات اے خوشا وقت کہ پھر وصل کا ساماں ہے وہی دست عاشق ہے وہی یار کا داماں ہے وہی دل کے آئینہ میں عکس ریخ جاناں ہے وہی مَردُم پشم میں نقش شبہ وہاں سے وہی ہو گئی دُور غم ہجر کی کلفت ساری شکر صد شکر کہ اللہ کا احساں ہے وہی مُرہ دہ اے جان و دلم ! پھر وہی ساقی آیا ئے وہی بزم وہی ساغر گرداں ہے وہی مل گئے طالب و مطلوب گلے آپس میں آپ محسن ہے وہی بند ہ احساں ہے وہی پھر وہی جنت فردوس ہے حاصل مجھ کو مشکل ایماں ہے وہی پخشمہر عرفاں ہے وہی ذرے ذرے میں مرے رچ گیا دلدار زن ذکر میں لب پر وہی فکر میں پنہاں ہے وہی آتش عشق و محبت کا وہی زور ہے پھر قلب پر یاں ہے وہی دیدۂ گریاں ہے وہی دیکھئے کیا ہو کہ اب ایک ہوئے ہیں دونوں چاک داماں ہے وہی چاک گریباں ہے وہی پھر اُسی تیغ نظر سے یہ جگر ہے گھائل طائرِ دل کے لئے ناوک مژگاں ہے وہی