بُخارِ دل

by Other Authors

Page 45 of 305

بُخارِ دل — Page 45

45 اب تو دیوار حرم تک ہے پھٹکنا مشکل ایک وہ دن تھے مگیر پر ندا دیتے تھے حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد روئے گل سیر ندیدیم و بهار آخر شد حصہ دوم۔ہجر قلب تاریک کہاں! لطف عبادات کہاں! حسرت وصل کہاں! شوق ملاقات کہاں! جب سے عصیان کے پھندے میں پھنسے اپنے قدم یار کی ہم سے رہی پھر وہ مدارات کہاں! بیقراری نے مجھے کر دیا اتنا مدہوش دن کدھر کرتا ہے معلوم نہیں رات کہاں کس طرح حُسن مجازی سے بجھاؤں یہ آگ قطرہ شبنم کا کہاں زور کی برسات کہاں درگه حضرت باری میں رسائی نہ رہی عرض حالات کہاں اور وہ مُناجات کہاں مورد قہر ہوئے آنکھ میں اُس یار کی ہم اب ہمیں غیروں پہ کچھ فخر و مباہات کہاں کھو دیا اپنے ہی ہاتھوں سے جوٹو ر باطن ایسے کافر پہ رہے پشم عنایات کہاں کیا گئے ہم سے۔کہ لیتے گئے سب فہم وڈ کا اب وہ حالات کہاں اور وہ خیالات کہاں طائر و ہم بھی تھکتا ہے، یہ وہ دُوری ہے ہم کہاں ! یار کہاں! رسم ملاقات کہاں؟ اب تو دن رات بچھی رہتی ہے صف ماتم کی دن کہاں عید کے اور شب شب بارات کہاں مجھ سے کہتے ہیں یہ دربان کہ ” جاتے ہو کدھر راندہ در ہو شرف یاب ملاقات کہاں“ اُن کی آنکھوں سے گرے خلق نے آنکھیں پھیریں اب کسی سے ہمیں امید مراعات کہاں دوست ہی کہتے ہیں بلغم ہے نکالو اس کو جا کے اب دل کے نکالوں میں بخارات کہاں د و