بُخارِ دل — Page 44
44 کیا مزا آپ کو آتا تھا عبادت سے مری؟ کیوں مجھے پچھلے پہر آپ جگا دیتے تھے؟ کیوں مرے منہ سے سنا کرتے تھے اپنی تعریف کیوں مرے دل کو لگن اپنی لگا دیتے تھے؟ لطف کیا تھا کہ پھنساتے تھے مصائب میں اُدھر اور ادھر رغبتِ تسلیم و رضا دیتے تھے عرفان نور عرفاں سے میرا سینہ منور کر کے پتے پتے میں مجھے اپنا پتا دیتے تھے منعکس ہوتے تھے آئینہ عالم میں شمی بوئے گل میں بھی مہک اپنی سنگھا دیتے تھے سالک راہِ محبت کی تسلی کے لئے آپ ہر ساز میں آواز سنا دیتے تھے اس لئے تا کہ غبارِ رہ جاناں بن جائیں خاک میں اپنے تئیں ہم بھی ملا دیتے تھے آہ وزاری میں ہماری یہ کشش تھی پر زور آپ خود پینگ محبت کے بڑھا دیتے تھے چُھپ کہاں سکتا تھا چہرے سے ترے عشق کا نور لاکھ ہم اس کو رقیبوں سے چُھپا دیتے تھے یوٹی بڑھتے گئے میدانِ محبت میں قدم ہم چلے ایک تو دس آپ بڑھا دیتے تھے پھر ہوا وہ جو حریفوں سے سنا تھا ہم نے جس کی پہلے سے خبر اہل صفا دیتے تھے بند وہ روزن دیوار ہوا جس میں سے رُخ دکھا دیتے تھے آواز سنا دیتے تھے بے رخی یار نے کی۔روتے ہو کیا قسمت کو چُھٹ گئے ہم سے جو قسمت کو بنا دیتے تھے تھا قصو ر ا پنا ہی سب ور نہ وہ جانِ جاناں طالبوں کو نہ کبھی اپنے دغا دیتے تھے