بُخارِ دل — Page 43
43 د اُن دنوں سوز کا عالم تھا یہ اپنا کہ جدھر آہ کرتے تھے۔اُدھر آگے لگا دیتے تھے نالہ نیم شمی اتنا مؤثر تھا میرا آپ بھی سُن کے کبھی سر کو ہلا دیتے تھے دوست تو دوست رقیبوں کو رُلاتے تھے ہم اک قیامت ترے کوچہ میں مچا دیتے تھے لطف تھا بھوک کا صد نعمت رضواں سے فزوں ماحضر اپنا مساکیں کو اٹھا دیتے تھے جب سے یہ سمجھے کہ مخلوق ہے گلن تیری عیان خدمت خلق میں سب وقت لگا دیتے تھے محبت کعبہ دل کو سجاتے تھے تصور سے تیرے اور محبت کا دیا اُس میں جلا دیتے تھے ماسوی اللہ کے خاشاک سے پھر کر کے صفا قلب صافی کو تیرا عرش بنا دیتے تھے صدقے کر دیتے تھے یہ جانِ حزیں قدموں پر ہر رگ وریشہ کو سجدے میں گرا دیتے تھے پھر خبر کچھ نہیں جاتے تھے کہاں عقل و شعور آپ آتے تھے کہ سب ہوش بھلا دیتے تھے اک تجتبی سے مرے ہوش اُڑا دیتے تھے رُخ دکھاتے تھے تو دیوانہ بنا دیتے تھے جب سمجھ میں نہ کبھی آپ کا آتا تھا کلام راستہ عقدہ کشائی کا سمجھا دیتے تھے گہ بڑھا دیتے تھے دلداری سے اُمید وصال ہجر وفرقت سے گہے مجھ کو ڈرا دیتے تھے سخت ڈبدے میں مری جان کو رکھتے تھے مدام اب میں سمجھا سبق خوف در جادیتے تھے فاش کر دے نہ کہیں راز امانت یہ جھول مُہر خاموشی مرے لب پہ لگا دیتے تھے