بُخارِ دل — Page 42
42 نکتہ گیری تھی گہے نکتہ نوازی گا ہے دونوں اوصاف عجب مل کے مزا دیتے تھے غفلتوں اور گناہوں کی عمارت ہر روز ہم بناتے تھے مگر آپ گرا دیتے تھے ہاتھ خالی نہ پھرے در سے کبھی آپ کے ہم رَبَّنَا رَبَّنَا کہہ کر جو صدا دیتے تھے یہ تو عادت تھی قدیم آپ کی اے ابر کرم مانگتے جتنا تھے ہم اس سے ہوا دیتے تھے گر بھڑک اٹھتی کبھی آتشِ عصیاں اپنی آب رحمت سے لگی آگ بجھا دیتے تھے رہنمائی کو میری فوج ملائک آتی نفس و شیطان اگر راہ کھلا دیتے تھے قطره اشک کے بدلے مئے جامِ اُلفت واہ کیا کہنے کہ کیا لیتے تھے کیا دیتے تھے مکتب عشق میں جب درسِ وفا دیتے تم وعدہ ”قول بلی“ یاد کرا دیتے تھے دیکھ کر ترچھی نگاہوں سے مری حالت زار حوصلہ ہم سے غریبوں کا بڑھا دیتے تھے آرتش شوق کے بھڑ کانے کو گاہے گاہے پردہ غیب میں ذات اپنی چھپا دیتے تھے قبض اور بسط چلے جاتے تھے دونو پیہم ایک ہی حال میں فرصت نہ ذرا دیتے تھے دل کے جھلسانے کو کافی تھی فقط خاموشی سب سے بڑھ کر یہی طالب کو سزا دیتے تھے خود پھنساتے تھے بلا میں کہ تماشا دیکھیں خود ہی پھر بگڑی ہوئی بات بنا دیتے تھے تلخی و آہ و بکا، سوزش دل درد نہاں خوب بیمار محبت کو دوا دیتے تھے سورج اور چاند ستاروں کی خصوصیت کیا تم تو ذرے میں چمک اپنی دکھا دیتے تھے غیر ممکن ہے کہ تم بھی ہو۔انائیت بھی اک اللہ سے ہی یہ سب قصہ چکا دیتے تھے 1 إِنِّي انا لله رَبُّ العَالَمِين - إِنِّي أَنَا رَبُّكَ