بُخارِ دل

by Other Authors

Page 41 of 305

بُخارِ دل — Page 41

41 بخار دل ی نظم شعر و شاعری کے رنگ میں نہیں لکھی گئی بلکہ واقعی بخار دل ہے۔جیسا کہ اس کا نام ظاہر کرتا ہے۔اس نظم کے لکھنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ احباب کو اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے اور پھر اس تعلق کو قائم رکھنے کی توجہ پیدا ہو۔یادرکھنا چاہئے کہ اس نظم میں استعارہ کے طور پر جو بعض الفاظ آئے ہیں ان کو استعارہ ہی سمجھا جائے۔مؤلف کا ہرگز یہ عقیدہ نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات والا صفات کو نعوذ باللہ محدود یا مخلوق کی طرح مجسم خیال کرتا ہے بلکہ بعض الفاظ محض استعارہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں تا کہ ایک قسم کا مفہوم بیان کرنے والے کا ادا ہو جائے یا بعض الفاظ جوش محبت میں استعمال کئے جاتے ہیں دوسرے مقام پر وہ جائز نہیں ہوتے۔پس موقع اور محل کے لحاظ سے معافی لینے کا خیال رکھنا چاہئے۔حصہ اوّل- وصل یاد ایام کہ تم جلوہ دکھا دیتے تھے پردہ زُلف دوتا رخ سے ہٹا دیتے تھے آپ آجاتے تھے یا ہم کو بلا لیتے تھے یا لب بام ہی دیدار کرا دیتے تھے دن بہت گزرے نہیں جب کہ تھا آنا جانا حاضری آپ کی ہم صبح و مسا دیتے تھے روٹھ جاتے جو کبھی جان کے ہم تم سے ذرا گد گدی کر کے معا آپ ہنسا دیتے تھے