بُخارِ دل — Page 302
302 یہ کہہ کر انہوں نے ایک ایک شعر کی باریکیاں اور معنی بیان کرنے شروع کئے جب آخری شعر کی تفسیر سے فارغ ہوئے تو حاضرین نے ایک قہقہہ لگایا، پھر تالیاں پیٹیں اور آخر میں تین دفعہ آپ آپ بُرے کا نعرہ بلند کیا۔محمد جی بیچارے پریشان سے ہو گئے کہنے لگے ” کیا بات ہے؟ آخر جب اصل بات معلوم ہوئی تو شرمندگی کے مارے اُن کی یہ حالت ہوگئی کہ جیسے گھڑوں پانی سر پر پڑ گیا ہو۔بار بار پوچھتے کہ ”سچ بتاؤ ، واقعی یہ غزل غالب کی نہیں ہے؟ کہیں مجھے بنا تو نہیں رہے؟“ مگر جب اُنہیں یقین آ گیا تو پھر ایسے ففرو ہوئے کے مدتوں تک اُن کی زیارت نصیب نہ ہوئی۔اس کے بعد جب بھی ملے تو اُکھڑے اُکھڑے اور اس واقعہ کے بعد تو انہوں نے غالب کا نام ہی لینے کی گویا تم کھالی۔ناظرین کے تفتن طبع کے لئے وہ غزل درج ذیل ہے۔واضح ہو کہ اس واقعہ سے غالب مرحوم کے کمال اور اُن کی شاعری کی سبکی یا تو ہین ہرگز مقصود نہیں بلکہ موجودہ زمانے کے بعض ”غالب شناسوں“ کی حالت کا دکھانا مقصود ہے۔محمد اسمعیل) سوزش دل تو کہاں اس حال میں جان و تن ہیں سوزنِ جنجال میں کیوں نہیں آفت مجھے آتی نظر غیر ہے گر اُس سے قیل و قال میں خاطر بت خاطر حسرت بنے گر صنم کو چھوڑ دوں اس حال میں قبض خاطر آسماں بھی کیا کرے فائدہ ہرگز نہ ہو اسہال میں چشم دل کیوں ابنِ آدم بن گئی دانه گندم کہاں اس کال میں موت کی ساعت کہ شاید آ گئی طنطنہ خنجر کا ہے گھڑیال میں