بُخارِ دل

by Other Authors

Page 303 of 305

بُخارِ دل — Page 303

303 ہوں سبک سریاں تلک میں اے قضا بال سر پر اور سر ہے بال میں کوہ گن شیریں ادا میں محو تھا ناگہاں غلہ لگا کر یال میں غلط چشم بینا چشمه منقار ہے دقت افعال ہے اقوال میں مشت پر اور تیرگی انداز کی شاہدانِ نُور کے اک بال میں پہلے تھا ہمدم سے مل کر نیشکر تلخ دارو ہے مگر امسال میں دشت غربت! ہم سفر کیونکر چلے اس صنم کی ظالمانہ چال میں جانب ادبار کیوں قسمت چلی ہے تلاطم آج کل اقبال میں چاشنی اس تیر مژگاں کی نہ پوچھ خنده دل ہو گیا سو فال میں قیس کو مجنوں سمجھنا ہے عقل گل ہے عشق کے افعال میں ہ غم گر نہ بولے بے صدا آتش غم نقرئی مہنال میں کا عالم پری ہو یا کہ حُور ہے صفائی سیم تن کی کھال میں گردش پیر فلک صد حیف ہے پھینکنا تھا کیا ہمیں پاتال میں خال رُخ ہے مرغ دل سے یوں نہاں آ گیا رمضان ہے شوال میں نحس بختی کو نجومی دیکھ کر مشتری رکھتا ہے میری فال میں تن برہنہ نجد میں مجنوں پھرے ناقه لیلا نہ ہو گر شال میں خمی! آسائش دل کیا ہوئی نقص ہے گرحُسن کے اکمال میں ہم نفس کہتا غلط ہے گاؤ میش روغن گل بیضہ گھڑیال میں بیروں سیاه میں غالب تیره درول زلف مشکیں پنچہ خلخال