بُخارِ دل — Page 301
301 میرا یہ مطلب نہیں کہ غالب معمولی شاعر تھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ گووہ نہایت اعلیٰ اور فلسفیانہ اشعار کہتے تھے مگر بعض اشعار اُن کے مشکل اور دقیق اور بعض واقعی بے معنی ہوا کرتے تھے ، اور سب اہل الرائے ادیبوں اور شاعروں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ مگر آج کل ایک فرقہ ایسا پیدا ہو گیا ہے جو اُن کو نا واجب طور پر آسمان پر چڑھا رہا ہے۔انہی میں سے ہمارے ایک دوست محمد جی صاحب بھی تھے وہ کہا کرتے تھے واہ غالب، ظالم غالب تیرا کلام کیسا عجیب ہے۔میرے نزدیک تو تیرا ایک شعر بھی بے معنی نہیں ہے! ایک بندش بھی بغیر خوبی کے نہیں ہے! وہ لوگ بد تمیز، بے علم اور احمق ہیں جو تیرے اشعار کو مشکل یا بے معنی کہتے ہیں! مجھ سے پوچھیں تو میں اُن کو تیرے اشعار آبدار کی تفسیر کر کے بتاؤں وغیرہ وغیرہ۔جولائی 1906 ء کا زمانہ تھا کہ اک دن جب میں ایسے فقرے سنتے سنتے تھک گیا تو اُن سے عرض کیا کہ ”بھائی محمد جی صاحب ! ہمارے پاس بھی آپ کے مکرم محترم غالب کی ایک غیر مطبوعہ غزل ہے۔جب جا نہیں تم اس کے صحیح معنی کر دو۔ورنہ شیخی بگھارنا تو کوئی خوبی نہیں کہنے لگے ”ابھی لائے، ابھی میں نے عرض کیا ”کل پیش کروں گا“ چنانچہ رات کو ہماری پارٹی نے ”غالب“ بن کر اُن کی طرز کی ایک غزل بنائی۔اس سازش میں تین چار آدمی شریک تھے۔دوسرے دن جب محمد جی صاحب تشریف لائے تو ہم نے وہ غزل پیش کی۔پہلے تو دیر تک اُسے پڑھتے رہے، پھر فرمانے لگے ”بے شک ہے تو یہ غالب ہی کی ، پھر جھومنے لگے ”واہ کیا کلام ہے! کیا باریک نکات ہیں، کیا الفاظ کی بندش ہے، کیا گہرائیاں ہیں۔کیا معنی ہیں۔بس قربان ہونے کو جی چاہتا ہے